مودی کے ہندوتوا راج میں کروڑوں بھارتیوں کا حقِ رائے دہی سلب

مودی کے ہندوتوا راج میں کروڑوں بھارتیوں کا حقِ رائے دہی سلب

Jul 6, 2026|ویب ڈیسک

مودی کے ہندوتوا راج میں کروڑوں بھارتیوں کا حقِ رائے دہی سلب

​نئی دہلی — نریندر مودی کی قیادت میں قائم ہندوتوا حکومت نے کروڑوں بھارتی شہریوں کا بنیادی آئینی حق سلب کر کے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا پول کھول دیا ہے۔ عالمی میڈیا اور سیاسی مبصرین کے مطابق، مودی حکومت نے بھارتی عوام کا سامنا کرنے اور عوامی احتساب سے بچنے کے لیے اپنے خلاف اٹھنے والی سیاسی آوازوں کا وجود ہی مٹانا شروع کر دیا ہے۔

\مودی اپنی مرضی کے ووٹرز تیار کر رہا ہے، ’دی جاپان ٹائمز‘ کا سنسنی خیز انکشاف

​معروف بین الاقوامی جریدے ’دی جاپان ٹائمز‘ نے اپنی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں مودی سرکار کے گھناؤنے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اقتدار پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لیے مودی سرکار بھارتی عوام کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے اپنی مرضی کا ووٹر بیس تیار کر رہی ہے۔

​رپورٹ کے مطابق مودی نواز الیکشن کمیشن نے "اسپیشل انٹینسو ریویژن" جیسی متنازع انتخابی مہم کی آڑ میں ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر من پسند اور مشکوک تبدیلیاں کی ہیں۔

​ہولناک اعداد و شمار: مودی حکومت اب تک بھارت کی 9 ریاستوں میں ساڑھے 6 کروڑ سے زائد ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے خارج کر چکی ہے، جبکہ یہ تعداد جلد ہی 10 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی دھاندلی، عالمی و ملکی ماہرین کی گواہی

​مودی حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں کے اس بھیانک استعمال پر دنیا بھر کے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے:

​یوگیندر یادو (سیاسی تجزیہ کار): "مودی نے ریاستی قوانین اور آئینی اداروں کا بے جا استعمال کر کے عوام کو قائل کرنے کے بجائے ووٹروں کو ہی تبدیل کرنے کا خطرناک کھیل شروع کر دیا ہے۔"

​جائلز ورنیئر (فرانسیسی سیاسی ماہر): "ووٹر لسٹوں میں اچانک اور خفیہ تبدیلیاں کرنا بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سٹرکچرل انتخابی دھاندلی ہے۔"

​سنجے جھا (سابق ترجمان کانگریس): "مودی کے زیرِ اقتدار بھارت میں الیکشن کمیشن اور بیوروکریسی سمیت تمام ریاستی ادارے غیر جانبدار رہنے کے بجائے مکمل طور پر مودی کی سیاست کے رنگ میں رنگ چکے ہیں۔"

مغربی بنگال میں شہریوں پر سرکاری سہولیات کے دروازے بند

​’دی جاپان ٹائمز‘ کے مطابق اس مجرمانہ پالیسی کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں اور اپوزیشن کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں کو پہنچ رہا ہے۔ مغربی بنگال میں جن لاکھوں شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا ہے، مودی سرکار نے اب انہیں کسی بھی قسم کی سرکاری امداد، راشن اور صحت کی بنیادی سہولیات حاصل کرنے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔