وزیراعلیٰ بلوچستان کا تاریخی مکالمہ، گمراہ کن بیانیے زمیں بوس

وزیراعلیٰ بلوچستان کا تاریخی مکالمہ، گمراہ کن بیانیے زمیں بوس

Jul 5, 2026|ویب ڈیسک

​اہم نکات

​بڑی عوامی شرکت: اوپن ایکس اسپیس میں ناقدین اور این جی اوز سمیت 16 ہزار سے زائد شرکاء کی ریکارڈ موجودگی۔

​تعلیمی و ڈیجیٹل انقلاب: بلوچستان کے تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کے لیے 4 ارب روپے کے تیز رفتار انٹرنیٹ منصوبے کا اعلان۔

​جامع انتظامی اصلاحات: صوبائی تاریخ میں پہلی بار پنشن ریفارمز، الیکٹرک وہیکلز پالیسی اور غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی۔

​ایکس اسپیس گفتگو: پروپیگنڈے کے خلاف حقائق اور شواہد کی فتح

​وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر ایک کھلی اور حقائق پر مبنی گفتگو کے دوران سب نیشنلسٹ کے احساسِ محرومی اور لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم گمراہ کن بیانیے کو مؤثر انداز میں مسترد کر دیا۔ اس ورچوئل مکالمے میں مختلف مکتبۂ فکر، بشمول ناقدین اور این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ ایک موقع پر شرکاء کی تعداد 16 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔

​ماہرینِ سیاسیات کے مطابق، ہزاروں نوجوانوں کی اس ایکس اسپیس میں فعال شرکت اور ریاستی موقف کی تائید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی اور بھارتی پراکسیز کا بلوچستان سے متعلق منفی پروپیگنڈا بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

​بلوچستان میں پہلی بار انقلابی گورننس اور پنشن ریفارمز کا نفاذ

​وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبے میں شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات کی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ بلوچستان نے تاریخ میں پہلی بار پنشن ریفارمز اور الیکٹرک وہیکلز (EV) پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کا مقصد سرکاری محکموں میں جامع اصلاحات لانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔

​نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیمی وظائف کا اعلان

​صوبے کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے 'یوتھ انگیجمنٹ پلان' کے تحت متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

​4 ارب روپے کا ڈیجیٹل منصوبہ: بلوچستان کے تمام سرکاری اسکولوں، کالجوں، جامعات اور صحت کے مراکز میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

​اعلیٰ تعلیم کا فروغ: ہونہار طلبہ کے لیے ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ اور بین الاقوامی اسکالرشپس کی مد میں خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

​ریاستی رٹ کا تحفظ اور تشدد پر اکسانے والے عناصر کی مذمت

​سیکیورٹی اور عوامی حقوق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے لاپتہ افراد اور عوامی حقوق کی آڑ میں معصوم عوام کو تشدد پر اکسانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ پاکستان کی انتہائی پیشہ ورانہ اور باصلاحیت مسلح افواج کی موجودگی میں چند پرتشدد عناصر ریاستی رٹ کو کمزور کرنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتے۔

​مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا براہِ راست عوامی مکالمہ اور سخت ترین سوالات کے خندہ پیشانی سے حقائق پر مبنی جوابات دینا، شفاف طرزِ حکمرانی اور مؤثر عوامی رابطے کی ایک بہترین اور روشن مثال ہے۔