افغان رجیم میں سابق سکیورٹی اہلکاروں کے لیے زمین تنگ

افغان رجیم میں سابق سکیورٹی اہلکاروں کے لیے زمین تنگ

Jul 5, 2026|ویب ڈیسک

کابل – افغان طالبان کی جانب سے عام معافی کے بلند بانگ دعووں کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ افغانستان کے مختلف صوبوں میں سابق سکیورٹی ملازمین اور انٹیلی جنس افسران پر بہیمانہ تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں شدید ترین تیزی آ چکی ہے۔ معتبر افغان جرائد اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مشنز نے انکشاف کیا ہے کہ سابقہ حکومت کے وفاداروں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


معروف افغان جرائد دی افغانستان انٹرنیشنل، ہشت صبح اور دی کابل ناؤ کے مطابق، حالیہ دنوں میں اہم عسکری و انٹیلی جنس شخصیات کو قاتلانہ حملوں اور اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔


بدخشاں، پکتیکا اور پروان میں سابق کمانڈرز کا بہیمانہ قتل

افغانستان کے طول و عرض سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابق فورسز کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں:


ڈپٹی ہیڈ این ڈی ایس (NDS) کا قتل: بدخشاں میں سابق نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے ڈپٹی ہیڈ اور گریٹر بدخشاں اربن سکیورٹی کے بااثر عہدیدار عبدالجمیل جویا صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں ایک مسلح حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے۔


پولیس اہلکار محمد عمر کی شہادت: بدھ کے روز پکتیکا کے ضلع جانی خیل میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق حکومت کے پولیس اہلکار محمد عمر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔


کمانڈر حشمت اللہ کا اغوا اور قتل: گزشتہ ہفتے صوبہ پروان سے سابق افغان فوجی کمانڈر حشمت اللہ کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعد میں ان کی لاش برآمد ہوئی، جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔


اقوام متحدہ (UN) اور یوناما کی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ

عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان کے دعووں کو حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے۔


"افغان طالبان رجیم میں سابق حکومتی ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں کے قتل، غیر قانونی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔"

— انتونیو گوتریس، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ


اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی جاری کردہ حالیہ سہ ماہی رپورٹ میں 26 جنوری سے 31 مارچ کے قلیل عرصے کے دوران سابق اہلکاروں پر ہونے والے مظالم کے باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں:


ٹارگٹ کلنگ/قتل: 05 تصدیق شدہ واقعات


غیر قانونی گرفتاریاں: 20 سابق اہلکار حراست میں لیے گئے


ریاستی تشدد: 08 ہولناک کیسز ریکارڈ کیے گئے


مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے کی حکومتی حکمتِ عملی

دفاعی اور افغان امور کے ماہرین کے مطابق، ان پیاپے ہلاک توں اور کارروائیوں کا مقصد طالبان رجیم کے خلاف اٹھنے والی ممکنہ مزاحمتی تحریکوں کو کچلنا ہے۔ طالبان انتظامیہ سابق سکیورٹی اہلکاروں اور تجربہ کار فوجی کمانڈروں کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لا کر اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے