بھارتی ریاست منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر؛ مودی سرکار ناکام

بھارتی ریاست منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر؛ مودی سرکار ناکام

Jul 6, 2026|ویب ڈیسک

ضلع کامجونگ میں تشدد بھڑک اٹھا؛ نامعلوم حملہ آوروں نے 3 مقامات پر 20 گھروں کو آگ لگا دی

​امپھال — بھارتی مودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ریاست منی پور میں ایک بار پھر شدید نسلی فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور ریاست میں قانون کی گرفت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

​بھارت کے اپنے معتبر جریدے 'ٹائمز آف انڈیا' نے منی پور میں اٹھنے والے ان نئے فسادات کی ہولناک تفصیلات سامنے لاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ضلع کامجونگ میں شرپسندوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

کوکی اور ناگا قبائل کی بستیوں پر حملے؛ بڑے پیمانے پر آتشزدگی

​رپورٹ کے مطابق حالیہ لہر میں مختلف نسلی گروہوں کو نشانہ بنا کر ریاست کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

​فائمول گاؤں کی تباہی: شرپسندوں نے سب سے پہلے کوکی برادری کے سرحدی گاؤں 'فائمول' کو نذرِ آتش کیا، جس کے نتیجے میں 15 مکانات مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئے۔

​ناگا قبائل پر جوابی کارروائی: فائمول پر حملے کے بعد جوابی کارروائی میں ناگا برادری کے دیہات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 7 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔

​تانگکھول ناگا بستی پر حملہ: ایک اور واقعے میں حملہ آوروں نے ضلع کامجونگ کی ہی ایک اور تانگکھول ناگا بستی میں مزید 7 گھروں کو آگ لگا دی۔

مودی حکومت عالمی سطح پر کٹہرے میں؛ انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں

​منی پور کی اس سنگین صورتحال پر اب بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مودی سرکار کی مجرمانہ غفلت پر پھٹ پڑی ہیں۔

​"منی پور میں جاری فسادات، انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں اور لاکھوں افراد کی نقل مکانی مودی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔"

— ایمنسٹی انٹرنیشنل

موجودہ بحران کے اہم پہلو (Key Analysis):

​90 کی دہائی سے زیادہ تباہ کن تنازع: نسلی امور کی ماہر پروفیسر اجائیلیو نیومائی کے مطابق، مودی حکومت کی دانستہ غفلت کے باعث اٹھنے والا یہ تنازعہ 1990ء کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن شکل اختیار کر چکا ہے۔

​امن برقرار رکھنے میں ناکامی: حالیہ پے در پے حملوں اور جلادھیو کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی انتظامیہ منی پور میں شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

​ریاستی سرپرستی کا الزام: ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی ہندوتوا نواز اور متعصبانہ پالیسیاں اس خطے میں لگی آگ کو مزید بھڑکانے کی ذمہ دار ہیں۔