ہنہ اوڑک میں پولیس اور ایف سی کی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا بڑا فیصلہ
کوئٹہ — صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان نے ہنہ اُوڑک کے علاقے کلی بابری میں پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق، اس نئی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ کا بنیادی مقصد علاقے میں امن و امان کا قیام، کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر فوری ردِعمل اور سیکیورٹی اداروں کے مابین باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
محکمہ داخلہ کی پولیس اور ایف سی کو مشترکہ رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت
محکمہ داخلہ بلوچستان نے پولیس اور ایف سی کے اعلیٰ حکام کو احکامات جاری کر دیے ہیں کہ وہ مجوزہ مقام، نفری کی تعیناتی اور درکار وسائل سے متعلق ایک جامع مشترکہ رپورٹ جلد از جلد تیار کر کے پیش کریں۔ واضح رہے کہ مقامی آبادی نے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے سیکیورٹی پوسٹ کے لیے اپنی زمین رضاکارانہ طور پر فراہم کی ہے۔
اہم نکتہ: مقامی قبائلی عمائدین کی جانب سے زمین کی فراہمی حکومت اور عوام کے مابین امن کے لیے مشترکہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کلی بابری کا دورہ، عمائدین سے ملاقات
سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ہنہ اوڑک کے نواحی علاقے کلی بابری کا ہنگامی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے جائے وقوعہ پر سیکیورٹی کے انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا اور علاقے کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔
صوبائی وزیر داخلہ نے دورے کے دوران کلی بابری کے قبائلی عمائدین اور مقامی نوجوانوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ہنہ اوڑک اور اس کے گردونواح میں امن و امان کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔
مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ کے اہم اہداف
فوری ردِعمل (Quick Response): کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پولیس اور ایف سی کی فوری کارروائی کو یقینی بنانا۔
بہتر سیکیورٹی روابط: دونوں فورسز کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ اور آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دینا۔
عوامی تحفظ کا احساس: کوئٹہ کے نواحی سیاحتی اور رہائشی علاقوں میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔