مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں 3500 کشمیری گرفتار

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں 3500 کشمیری گرفتار

Jul 25, 2026|ویب ڈیسک

سری نگر — مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے پولیس اہلکار کے قتل کو بہانہ بنا کر مظلوم کشمیریوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اننت ناگ واقعے کے بعد کے جانے والے اس وحشیانہ کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ بلاجواز املاک کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


ہزاروں گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری سے وادی میں کشیدگی شدید تر

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) اور ترکی کے معتبر خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی کی رپورٹس کے مطابق، قابض بھارتی فورسز نے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے مار کر 3500 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔


صرف گرفتاریوں پر ہی بس نہیں کیا گیا بلکہ اننت ناگ کے واقعے کے بعد بھارتی فورسز نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے دو رہائشی مکانات کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔ بھارتی جریدے انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان تازہ اقدامات سے مقبوضہ وادی میں سیاسی و امن و امان کا تنازعہ شدید تر ہو چکا ہے۔


اہم تحریکی و خبراتی نکات:

بڑے پیمانے پر گرفتاری: وادی بھر سے 3500 سے زائد بے گناہ شہریوں کی جبری حراست۔


املاک کی تباہی: رہائشی مکانات کو بارودی مواد سے اڑانے کا سلسلہ جاری۔


عوامی غم و غصہ: شدید کریک ڈاؤن کے باعث مقبوضہ کشمیر میں شدید خوف اور غم و غصے کی لہر۔


کشمیری قیادت اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے "اجتماعی سزا" کی شدید مذمت

مودی حکومت کے اس آمرانہ اقدام پر مقبوضہ وادی کی سیاسی قیادت اور عالمی اداروں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔


سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی اقدام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:


"ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کی گرفتاری اور ان کے گھروں کی مسماری دراصل 'اجتماعی سزا' کی بدترین مثال ہے، جس کی کسی بھی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔"


وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی بھارتی فورسز کی طرف سے کیے جانے والے جبر پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھی بھارت سرکار نے اسی قسم کے متنازعہ اور جابرانہ اقدامات کیے تھے۔


دوسری جانب انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبری اقدامات اور مہم جوئی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جو خطے کے امن کے لیے انتہائی تشویشناک ہے