گرین پاکستان انیشی ایٹو: بنجر زمینوں کی بحالی کے لیے بڑی سرمایہ کاری

گرین پاکستان انیشی ایٹو: بنجر زمینوں کی بحالی کے لیے بڑی سرمایہ کاری

Jul 26, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد — گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر میں بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی نظام کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ منصوبے کی بدولت نجی اور اوورسیز سرمایہ کاروں کے لیے زراعت کے شعبے میں ترقی کے نئے دروازے کھل گئے ہیں۔


بیرون ملک 12 سے 13 سال گزارنے کے بعد وطن واپس آنے والے اوورسیز پاکستانی اور زرعی سرمایہ کار غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ انہوں نے گرین پاکستان انیشی ایٹو سے متاثر ہو کر بطوری پائینئر اس منصوبے میں شمولیت اختیار کی۔ منصوبے کے تحت انہیں رکھ غلاماں کے علاقے میں زمین فراہم کی گئی، جہاں اس وقت 1,100 ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت کاری کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔


رکھ غلاماں: 10 ہزار ایکڑ بنجر رقبے کی بحالی

غلام مصطفیٰ کے مطابق رکھ غلاماں کی 10 ہزار ایکڑ بنجر زمین میں سے گزشتہ دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد سے زائد رقبے کو دوبارہ قابلِ کاشت بنا لیا گیا ہے۔ اس وقت فارم پر گندم، چنا اور کینولا جیسی اہم فصلیں کاشت کی جا رہی ہیں، جبکہ دو سال کی مسلسل محنت کے بعد اب پیداوار مارکیٹ میں جانا شروع ہو گئی ہے۔


"گرین پاکستان انیشی ایٹو نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی سرزمین پر سرمایہ کاری اور کام کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ پاکستان کا مستقبل زرعی زمین کی ترقی سے وابستہ ہے کیونکہ دنیا بھر میں خوراک کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔"

— غلام مصطفیٰ، اوورسیز سرمایہ کار


جدید ترین ٹیکنالوجی اور پی ایچ ڈی ماہرین کی رہنمائی

اس زرعی منصوبے کی کامیابی میں جدید تکنیک کا بنیادی کردار ہے۔ گرین پاکستان انیشی ایٹو کی معاونت سے فارم پر درج ذیل سہولیات حاصل ہیں:


جدید آبپاشی: سنٹرل پیوٹ (Central Pivot) اور جدید سمارٹ ایریگیشن سسٹم کا استعمال۔


جدید ترین مشینری: اعلیٰ معیار کے درآمدی ٹریکٹرز اور ہائی ٹیک زرعی آلات۔


ماہرانہ رہنمائی: پی ایچ ڈی زرعی ماہرین کی ہمہ وقت دستیابی جو باقاعدگی سے فارم کا معائنہ کرتے ہیں اور کسانوں کی تربیت یقینی بناتے ہیں۔


گرین پاکستان انیشی ایٹو کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اپنا کر ملک کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنانا اور عالمی سطح پر فوڈ سیکورٹی کے خدشات کا حل فراہم کرنا ہے