ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے چیلنج اسپیشل اکنامک زون لاہور میں صنعتی ترقی کے نئے دور کا آغاز

ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے چیلنج اسپیشل اکنامک زون لاہور میں صنعتی ترقی کے نئے دور کا آغاز

Aug 3, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد (ویب ڈیسک):


سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر سہولت کاری کے نتیجے میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے منصوبوں کو نئی سمت مل گئی ہے۔ اسی سلسے میں لاہور میں قائم کیے جانے والے 'چیلنج اسپیشل اکنامک زون' (SEZ) کے پہلے مرحلے کی فنانسنگ سے متعلق تاریخی معاہدوں پر باضابطہ دستخط کر دیے گئے ہیں۔


وزیر اعظم آفس میں فنانسنگ معاہدوں کی منتقلی اور اعلان

وزیراعظم آفس اسلام آباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران چیلنج SEZ لاہور کی پہلے مرحلے کی فنانسنگ کی باضابطہ تکمیل کا اعلان کیا گیا۔


ادارہ جاتی تعاون: چیلنج فیشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے تحت تیار ہونے والا یہ اہم پروجیکٹ اب مکمل طور پر عملی و صنعتی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔


ایس آئی ایف سی کا کلیدی کردار: ایس آئی ایف سی نے حکومتی اداروں، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مالیاتی شراکت داروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری کو یقینی بنا کر اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دیا ہے۔


چیلنج SEZ لاہور کی خصوصیات اور اقتصادی اہمیت

99.45 ایکڑ کے وسیع رقبے پر محیط چیلنج اسپیشل اکنامک زون لاہور کا بنیادی مقصد ملکی برآمدی صلاحیت اور صنعتی ویلیو چین کو تقویت دینا ہے:


تیکسائل صنعت کی جدید کاری: اس اکنامک زون کو جدید ترین برآمدی مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے فروغ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔


ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار: یہ منصوبہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے ہزاروں نئے مواقع اور پاکستان کی صنعتی پیداواری طاقت میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔


پاک چین اقتصادی شراکت داری: پاک چین معاشی تعاون کے تحت تیار ہونے والا یہ زون ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے نئے اور منافع بخش راستے کھولے گا۔


سرمایہ کاروں کا اعتماد اور سازگار کاروباری ماحول

مالیاتی ماہرین کے مطابق فنانسنگ معاہدوں کی بروقت تکمیل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے بڑے صنعتی منصوبوں پر ملکی و بین الاقوامی بینکاری شعبے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مسلسل بحال ہو رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی فعال حکمت عملی سے ملک میں سازگار کاروباری ماحول اور اسٹریٹجک منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل ممکن ہو رہی ہے