مودی راج میں بھارتی سیاست کا بھیانک چہرہ: 4 ہزار سے زائد قانون سازوں پر مقدمات
مودی راج میں بھارتی سیاست کا بھیانک چہرہ: 4 ہزار سے زائد قانون سازوں پر مقدمات
نئی دہلی: بھارتی جمہوری اور عدالتی نظام میں سیاسی اشرافیہ کو حاصل غیر معمولی تحفظ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے شفاف حکمرانی کے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
معروف بھارتی جریدے 'دی وائر' کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ اور بھارتی سپریم کورٹ کے مستند اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کے خلاف مجموعی طور پر 4,192 فوجداری مقدمات برسوں سے زیرِ التوا ہیں۔
14 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ فوجداری کٹہرے میں
رپورٹ کے ہوشربا انکشافات کے مطابق، بھارت کی 28 میں سے 14 ریاستوں کے حاضر سروس وزرائے اعلیٰ سنگین نوعیت کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
عدالتی التوا اور اشرافیہ نوازی نے ملک کے انتخابی و قانونی نظام کی ساکھ پر گہرے سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
اہم شخصیات اور زیرِ التوا مقدمات کی تفصیل:
ریونت ریڈی (وزیر اعلیٰ تلنگانہ): کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ کے خلاف تنہا 89 فوجداری مقدمات درج ہیں۔
سووندو ادھیکاری (بی جے پی رہنما، مغربی بنگال): بی جے پی کے سینیئر اپوزیشن لیڈر کے خلاف 29 فوجداری مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
اتر پردیش سمیت دیگر ریاستیں: بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سمیت کئی صوبوں میں قانون سازوں کے خلاف ہزاروں سنگین کیسز طویل عرصے سے فائلوں میں دبے پڑے ہیں۔
سیاسی جوابدہی کا فقدان اور عدالتی بحران
معروف بھارتی صحافی شویتا کوہاری کے مطابق، شدید فوجداری الزامات میں ملوث نمائندوں کی مقننہ میں مسلسل موجودگی اور قانون سازی کے عمل میں شرکت نے بھارتی جمہوری نظام میں جوابدہی اور شفافیت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔
"مودی دور میں عدالتی عمل میں غیر معمولی تاخیر اور فیصلوں میں عدم توازن نے عام بھارتی شہریوں کو انصاف سے دور کر دیا ہے، جہاں آئینی آزادی اور مساوات محض دکھاوے تک محدود رہ گئی ہے۔"
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی اداروں کے جارحانہ استعمال کے برعکس، سنگین الزامات کے حامل بااثر قانون سازوں کو قانونی رعایتیں ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نظامِ انصاف ہندوتوا ایجنڈے اور سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو چکا ہے