منگی ڈیم پر دہشت گردوں کا حملہ ، حقائق کیا ہیں؟
《کوئٹہ، بابر یوسفزئی》
منگی ڈیم پر دہشت گرد حملہ اپنے نہایت افسوسناک انجام کے باعث یقیناً ایک المناک سانحہ ہے۔ تاہم بلوچستان پولیس نے غیر معمولی بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ واقعے کے بعد ہمیشہ کی طرح امن دشمن عناصر اور مختلف ایجنڈا رکھنے والے حلقوں کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حقائق درست ترتیب کے ساتھ سامنے لائے جائیں۔
▪️ 6 جولائی کی صبح ایک ڈی ایس پی کی سربراہی میں بلوچستان پولیس کے تقریباً 35 اہلکار تعینات تھے۔ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ممکنہ خطرے کی پیشگی اطلاع ملنے پر حال ہی میں نفری میں اضافہ کیا گیا تھا۔ قریب ترین ایف سی پوسٹ تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی، جہاں تقریباً 20 اہلکار تعینات تھے۔
▪️ اسی روز تقریباً صبح 11 بجے پمپنگ اسٹیشن پوسٹ سے دور فاصلے پر وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی۔ چونکہ پوسٹ کو حال ہی میں اضافی نفری اور بہتر اسلحہ فراہم کیا گیا تھا، اس لیے کمانڈنگ افسر کا مؤقف تھا کہ موجودہ نفری صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔ اہلکار اپنی پوزیشنوں پر ڈٹے رہے جبکہ پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایف سی ونگ مسلسل رابطے میں رہے۔
▪️ احتیاطی اقدام کے طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز نے تقریباً 35 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی دستہ مزید کمک کے لیے روانہ کیا۔ اسی دوران فرنٹیئر کور نے فضائی نگرانی اور معاونت کے لیے ایک مسلح ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں بھیجا، جو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک فضائی نگرانی کرتا رہا۔
▪️ دہشت گرد وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے تاکہ پولیس پوسٹ اپنا گولہ بارود زیادہ سے زیادہ استعمال کر لے، اور شام تک پوسٹ کا بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا۔
▪️ جب کمک پوسٹ کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی فائرنگ شروع کر دی، جس کے باعث کمک کو حملے کی زد میں موجود پوسٹ سے کچھ فاصلے پر رکنا پڑا۔ اسی دوران ایف سی نے وی ٹی او ایل (VTOL) ڈرونز استعمال کیے اور مارٹر فائر کے ذریعے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، جس کی آڑ میں کمک نے آگے بڑھنا شروع کیا۔
▪️ اس وقت تک سورج غروب ہو چکا تھا۔ دہشت گردوں نے پوسٹ پر براہِ راست حملہ کر دیا اور قریب پہنچ گئے۔ اس شدید جھڑپ کے دوران پوسٹ پر موجود بہادر پولیس اہلکاروں اور آگے بڑھتی ہوئی پولیس و ایف سی کی کمک نے بھرپور مزاحمت کی۔ اس مقابلے میں 15 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 9 بہادر پولیس اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے اور 3 زخمی ہوئے، جنہیں ایف سی اور پولیس کی کمک کے پہنچنے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
▪️ چونکہ پوسٹ کا گولہ بارود تقریباً ختم ہو چکا تھا، اس لیے باقی ماندہ اہلکار، جن میں ڈی ایس پی سمیت 28 پولیس اہلکار شامل تھے، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گروپوں میں نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔
▪️ ان دونوں گروپوں میں سے ڈی ایس پی کی سربراہی والا گروپ بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہا، تاہم دوسرا گروپ، جس میں 18 اہلکار شامل تھے، رات کے اندھیرے میں دہشت گردوں سے جا ٹکرایا اور انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔
▪️ علاقے کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار ہے۔ بلند پہاڑ، گہری دراڑیں، پتھریلے راستے اور کھائیاں ہونے کے باعث لڑائی زیادہ تر قریب فاصلے پر ہوتی ہے جبکہ مشاہدہ بھی انتہائی محدود رہتا ہے۔ انہی حالات کے باعث ایف سی اور پولیس کی پیش قدمی احتیاط کے ساتھ جاری رہی کیونکہ متعدد مقامات پر گھات لگائے جانے کا خدشہ موجود تھا۔
▪️ ایف سی اور پاک فوج پورے علاقے میں جامع کومبنگ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ 300 مربع کلومیٹر سے زائد دشوار گزار پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے۔ اب تک مزید 8 دہشت گرد مختلف جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
▪️ اس دوران بعض مفاد پرست سیاسی عناصر مختلف اور گمراہ کن بیانیے پھیلا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پولیس پوسٹ نے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ آخری دم تک مزاحمت کی، اور ایف سی و پولیس کی کمک نے تیزی اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور پوری قوم ان پر فخر کرتی رہے گی۔