امریکہ میں  بھارتی  کمپنیوں  کا  ویزہ فراڈ بے نقاب

امریکہ میں بھارتی کمپنیوں کا ویزہ فراڈ بے نقاب

Jul 10, 2026|ویب ڈیسک

​ایچ ون بی اور پرم ویزہ پروگرامز میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری؛ امریکی نائب صدر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز

​واشنگٹن: امریکہ میں غیر ملکی ہنر مندوں کے لیے مخصوص 'ایچ ون بی' (H-1B) اور 'پرم' (PERM) ویزہ پروگرامز میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کی طرف سے کی جانے والی بڑے پیمانے پر جعل سازی کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس بین الاقوامی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد مودی حکومت کو عالمی سطح پر شدید سفارتی سبکی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

​معروف بھارتی آئی ٹی کمپنی 'کوگنیزنٹ' تحقیقات کے دائرے میں

​امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ تحقیقات عام نوعیت کی نہیں ہیں بلکہ اس کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔

​اہم ترین نام: امریکی محکمہ محنت کی اس کارروائی میں معروف ترین آئی ٹی کمپنی کوگنیزنٹ (Cognizant) سمیت کئی بڑی بھارتی کمپنیاں براہِ راست تفتیش کے دائرے میں آ چکی ہیں۔

​اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی: یہ حساس ترین تحقیقات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں قائم کردہ ایک خصوصی وفاقی ٹاسک فورس کے زیرِ نگرانی کی جا رہی ہیں۔

​غیر ملکی کارکنوں کا استحصال اور امریکی مارکیٹ کو نقصان

​امریکی محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل انتھونی ڈی ایسپوزیتو نے میڈیا کو بتایا کہ ملوث کمپنیوں کو باقاعدہ قانونی سمن جاری کر دیے گئے ہیں اور ان کے ریکارڈ کی باریک بینی سے چھان بین کی جا رہی ہے۔

​ان کا کہنا تھا کہ جعلی درخواستوں کے ذریعے نہ صرف ویزہ حاصل کرنے والے غیر ملکی ورکرز کا معاشی استحصال کیا جا رہا تھا، بلکہ ان غیر قانونی ہتھکنڈوں کی وجہ سے خود امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی شدید متاثر ہو رہے تھے۔

​بنیادی نقطہ: امریکی سیکیورٹی اور لیبر حکام کے مطابق، اس تازہ ترین اسکینڈل نے عالمی سطح پر بھارتی کارپوریٹ سیکٹر میں جاری مالی بدعنوانی، سائبر جرائم اور منظم ویزہ فراڈ کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔