ایپکس کمیٹی اجلاس میں فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کا عزم
کوئٹہ :
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں فیلڈ مارشل (چیف آف آرمی اسٹاف) جنرل سید عاصم منیر، گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ، احد خان چیمہ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔
حالیہ دہشت گردی اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں دہشت گردی کے سنگین واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں پولیس، پاک فوج کے جوان اور متعدد شہری شہید ہوئے۔ تاہم، ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا:
"آخری فسادی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ ہماری مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے ملک کے امن کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں اور پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔"
بیرونی سرپرستی اور افغان سرزمین کا استعمال
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے بیرونی روابط کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ (بھارت) ان دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کو جدید اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے اور یہ دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
اہم نکات اور مستقبل کا لائحہ عمل
فتنہ الخوارج کی ناکامی: وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 'فتنہ الخوارج' کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔
سفارتی کامیابیاں: پاکستان کی حالیہ سفارتی اور معاشی کامیابیاں دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
معرکہ حق: گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق کی کامیابی بھی دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔
روشن مستقبل: تمام تر چیلنجز کے باوجود پاکستان جلد ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے گا۔