پاکستان کی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں برآمدات 300 ملین ڈالر سے بڑھ گئیں
اے آئی ٹیکنالوجی کی شمولیت سے پاکستانی کمپنیوں کی عالمی مسابقت میں اضافہ؛ اسٹیٹ بینک نے جولائی تا مئی کے نئے اعدادوشمار جاری کر دیے
اسلام آباد: پاکستان میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے عالمی آؤٹ سورسنگ مارکیٹ میں ملک کے لیے نئے اور وسیع تر مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل حل کی بدولت پاکستان کا بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) سیکٹر اس وقت سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی برآمدی صنعتوں میں شامل ہو چکا ہے۔
کال سینٹر برآمدات میں 19 فیصد کا شاندار اضافہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 26-2025 کے پہلے 11 ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران 'بی پی او' اور کال سینٹرز کی مجموعی برآمدی آمدنی 300 ملین ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔
حالیہ اعداوشمار: جولائی سے مئی کے دوران کال سینٹرز کی برآمدات گزشتہ سال کے 269 ملین ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 322 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
شرح نمو: عالمی مارکیٹ میں پاکستانی سروسز کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ایک سال کے دوران اس شعبے میں 19 فیصد ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اے آئی ٹیکنالوجی اور عالمی مسابقت
جدید دور میں کسٹمر سپورٹ آپریشنز کو مؤثر بنانے کے لیے پاکستانی سروس پرووائیڈرز بڑے پیمانے پر اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ خودکاری (Automation)، تیز رفتار ڈیٹا اینالیٹکس، اور فوری صارفی خدمات نے پاکستانی کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں دیگر ممالک کے مدِ مقابل لا کھڑا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے تقریباً 90 فیصد کال سینٹرز اور بی پی او کمپنیاں اس وقت براہِ راست بیرونِ ملک صارفین کو خدمات فراہم کر کے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہی ہیں۔
اہم موڑ: بہتر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، حکومتی پالیسیوں کی سرپرستی اور ہنرمند افرادی قوت کی بدولت یہ شعبہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے اور باوقار مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔