بچوں کا غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال؛ سماجی اور سکیورٹی خطرات میں تشویشناک اضافہ

بچوں کا غیر محفوظ سوشل میڈیا استعمال؛ سماجی اور سکیورٹی خطرات میں تشویشناک اضافہ

Jul 10, 2026|ویب ڈیسک

​اسکرین ٹائم کی زیادتی سے ذہنی نشوونما متاثر؛ گیمنگ ایپلی کیشنز کے باعث خودکشی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے قانون سازی ناگزیر

​اسلام آباد: بچوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ اور غیر محفوظ استعمال اس وقت ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس نے معصوم اذہان کو شدید سماجی، نفسیاتی اور سکیورٹی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، موجودہ دور میں بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے برے اثرات سے بچانے کے لیے محفوظ اور باشعور سوشل میڈیا استعمال کی آگاہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔

​ذہنی صحت اور نشوونما پر تباہ کن اثرات

​بین الاقوامی میڈیا جرائد بشمول سی این این اور عرب نیوز کے مطابق، ابتدائی عمر میں موبائل اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی مجموعی شخصیت کو مسخ کر رہا ہے۔

​نفسیاتی مسائل: سوشل میڈیا کی لت بچوں میں بے چینی (Anxiety)، ڈپریشن، نیند کی کمی اور تعلیمی پسماندگی کا بنیادی سبب بن رہی ہے۔

​تربیت میں رکاوٹ: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اسکرین سائیڈ بائی سائیڈ بچوں کی جذباتی، سماجی اور جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

​سائبر جرائم اور خطرناک گیمز کا پھیلاؤ

​رپورٹ کے مطابق، منظم سمرٹ گروپ اور سائبر مجرم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کے معصوم ذہنوں کو برین واش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

​ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت قوانین اور فلٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ پر نفرت انگیز مواد اور افواہیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ماضی میں بلیو وہیل، مومو چیلنج اور پب جی (PUBG) جیسی ایپلی کیشنز کے بے جا استعمال کے بعد بچوں میں خودکشی جیسے انتہائی افسوسناک اقدامات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

​پاکستان میں صورتحال اور فوری قانون سازی کا تقاضا

​حالیہ ڈیٹا بیس رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی آبادی تقریباً 10 کروڑ 98 لاکھ ہے، جس میں ایک بہت بڑی تعداد اسمارٹ فون صارفین کی ہے۔

​ماہرین کی رائے: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے سخت ترین قانون سازی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ حکومت، اسکولوں، والدین اور میڈیا کو مل کر ایک جامع آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ مستقبل کے معماروں کو اس پوشیدہ ڈیجیٹل وبا سے بچایا جا سکے۔