حکومت اور سانحہ ہنہ اوڑک متاثرین میں مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم کرنے کا اعلان
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی یقین دہانی پر لواحقین راضی؛ شہدا کے خاندانوں کو نوکریاں، معاوضہ اور مفت تعلیم دینے کا بڑا فیصلہ
کوئٹہ: سانحہ ہنہ اوڑک کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ذاتی درخواست اور ٹھوس یقین دہانیوں کے بعد اپنا احتجاجی دھرنا باقاعدہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مذاکرات کی کامیابی کے بعد واضح کیا کہ وہ پہلے دن سے ہی دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے خصوصی حکومتی پیکج کا اعلان
دھرنا کمیٹی کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے مظاہرین کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
شہدا پیکج اور معاوضہ: سانحے کے شہدا کے ورثاء کو مکمل مالیاتی کمپنسیشن (معاوضہ) فراہم کیا جائے گا۔
ملازمتیں اور تعلیم: متاثرہ خاندانوں کے لواحقین کو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی اور شہدا کے بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
انتظامی جوابدہی: وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یا انتظامیہ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ اسے تسلیم کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، کیونکہ ان کے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔
قبیلے اور حکومت کی دہری ضمانت
میر سرفراز بگٹی نے دھرنے کے شرکا کو یقین دلایا کہ یہ فیصلے اعلیٰ ترین سطح پر کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا اہم بیان: ”آج جو بھی فیصلے ہوئے ہیں، بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان اور بطور 'چیف آف بگٹی' میں ان تمام وعدوں پر عمل درآمد کرنے کا قانوناً اور اخلاقاً پابند ہوں۔ میرے اور آپ کے بزرگوں کے تعلقات نسلوں پر محیط ہیں اور میں اپنی عوام کے ساتھ کھڑا تھا۔“
ریاست مخالف سازشوں کو ناکام بنانے کا عزم
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دھرنا کمیٹی کے شرکا کو محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دھرنے کو سیاسی رنگ دینے اور ملک و صوبے کے خلاف جاری بیرونی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہمارے بہادر جوانوں کو شہید کرنے کے بعد، ایک منظم سازش کے تحت ریاست کا نام بدنام کرنے والے عناصر سے اب آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔