دانہ سر بس کا المناک حادثہ؛ بس کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج

دانہ سر بس کا المناک حادثہ؛ بس کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج

Jul 4, 2026|ویب ڈیسک

40 مسافروں کے جاں بحق ہونے پر حکومتِ بلوچستان کا ایکشن؛ ٹرانسپورٹ قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ / دانہ سر — بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے مسافر بس کے انتہائی المناک حادثے کے بعد صوبائی انتظامیہ نے سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے بس کمپنی اور ڈرائیور کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس خونی حادثے میں 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 شدید زخمی ہوئے تھے۔


معاونِ وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے واقعے کی ہر پہلو سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔


حادثے کے نقصانات اور حکومتی اقدامات

اس دلخراش واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ حادثے کے بنیادی حقائق درج ذیل ہیں:


جانی نقصان: 40 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع۔


زخمی افراد: 8 مسافر ہسپتالوں میں زیرِ علاج۔


قانونی پیش رفت: غفلت اور مجرمانہ لاپرواہی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر (FIR) کا اندراج۔


سرکاری عزم: شاہد رند کا کہنا تھا کہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر حکومتِ بلوچستان کو گہرا دکھ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مانیٹر کرنے کے نظام کو مکمل طور پر بدلا جا رہا ہے۔


مسافر گاڑیوں کی فٹنس اور روٹ پرمٹس کی سخت جانچ پڑتال کا حکم

آئندہ ایسے ہولناک حادثات کی روک تھام اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے اہم تادیبی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔


وزارتِ ٹرانسپورٹ کو جاری کردہ نئی ہدایات

فٹنس سرٹیفکیٹ کی لازمی جانچ: ناقص اور غیر معیاری مسافر بسوں کو شاہراہوں پر لانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔


روٹ پرمٹس کی منسوخی: ٹریفک قوانین اور حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے روٹ پرمٹ فوری منسوخ کیے جائیں گے۔


حفاظتی آلات کی تنصیب: تمام لمبی مسافت کی بسوں میں رفتار کو کنٹرول کرنے والے آلات اور متبادل ڈرائیورز کی موجودگی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔


حکومت نے واضح کیا ہے کہ قومی شاہراہوں پر مسافروں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی انتظامی یا نجی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا