آئی ایس پی آر انٹرن شپ: سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا اہم خطاب
آئی ایس پی آر انٹرن شپ: سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا اہم خطاب
راولپنڈی: سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت ایک خصوصی نشست میں 21 مختلف اسٹیشنز سے تعلق رکھنے والے 6,150 سے زائد طلبہ و طالبات سے خطاب کیا۔ اس تفصیلی سیشن میں بلوچستان کی تاریخ، علیحدگی پسند بیانیے، دہشت گردی، انسانی حقوق، قومی سلامتی اور قومی تعمیر میں نوجوانوں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
بلوچستان کے مسائل کا آئینی اور پرامن حل
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے طلبہ کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی پسندی یا تشدد میں ہرگز پوشیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے آئینی، سیاسی، انتظامی اور ترقیاتی ذرائع کا مؤثر اور بروقت استعمال ہی واحد راستہ ہے۔
"بلوچستان میں علیحدگی پسند اور دہشتگرد تنظیموں کی سیاسی حکمتِ عملی کا بنیادی ذریعہ صرف اور صرف تشدد ہے۔" — سینیٹر انوارالحق کاکڑ
دہشتگردی کی مذمت اور ریاست کا عزم
اپنے خطاب میں انہوں نے ملک دشمن عناصر بالخصوص فتنۂ الہندوستان کے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کرنے اور ان کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سینیٹر کاکڑ نے حالیہ دلخراش واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی: جعفر ایکسپریس کے بے گناہ مسافروں، موسیٰ خیل میں عام شہریوں اور تربت میں محنت کش مزدوروں کو نشانہ بنانا حقِ زندگی کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔
نوجوانوں کا کردار: دلیل اور علم کی طاقت
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے نوجوان نسل کو ریاست مخالف بیانیوں کے خلاف ہراول دستہ قرار دیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ خود کو ذہنی، علمی اور فکری طور پر مضبوط بنائیں۔
فکری محاذ پر جنگ: "دہشتگردی کے خلاف اس طویل جدوجہد میں ہمیں صرف ہتھیاروں ہی نہیں بلکہ زبان کی طاقت، دلیل، علم، جدید ابلاغ اور اپنی تمام تر ذہنی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لانا ہوگا