مودی حکومت کی وعدہ خلافی کے خلاف بھارتی نوجوانوں کا 5 ستمبر کو دوبارہ احتجاج کا اعلان

مودی حکومت کی وعدہ خلافی کے خلاف بھارتی نوجوانوں کا 5 ستمبر کو دوبارہ احتجاج کا اعلان

Aug 28, 2026|ویب ڈیسک

​نئی دہلی: بھارتی حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر طلباء اور نوجوان تنظیموں نے ایک بار پھر سڑکوں پر نکلنے کی تاریخ طے کر دی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے مودی سرکار پر وعدہ شکنی کا الزام عائد کرتے ہوئے 5 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی نئی کال جاری کر دی ہے۔

سی جے پی کا حکومت پر مطالبات نظر انداز کرنے کا الزام

​سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت اپنے تحریری اور زبانی وعدوں سے مکر چکی ہے۔

​متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی عدم فراہمی: پیپر لیک تنازع اور امتحانی بے ضابطگیوں کے باعث دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرنے والے طلباء کے لواحقین کوتاحال کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

​مقدمات کی واپسی کا تعطل: سابقہ احتجاج کے دوران پرامن طلباء کے خلاف درج کی گئی درجنوں ایف آئی آرز واپس لینے کی باضابطہ یقین دہانی کے باوجود تاحال کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقاتی رپورٹ: مہلک طاقت کا بے دریغ استعمال

​تنظیم کے احتجاج سے قبل بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں سابقہ مظاہروں کے دوران بھارتی سیکیورٹی فورسز کے غیر متناسب اور مہلک طاقت کے استعمال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

پیلٹ گنز اور خطرناک ہتھیاروں کا استعمال

​ایمنسٹی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اور ہتھیار استعمال کیے گئے جو انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں:

​مظاہرین پر براہِ راست گولیاں، شاٹ گنز اور آنسو گیس کے شیل داغے گئے۔

​مجمع پر قابو پانے کے لیے الیکٹرک شاک اور گرینیڈز کا استعمال کیا گیا۔

​رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فورسز نے ان پیلٹ گنز کا استعمال کیا جو مقبوضہ کشمیر میں بینائی چھیننے اور اموات کا بڑا سبب رہی ہیں۔

​ایمنسٹی انٹرنیشنل بورڈ کے چیئرمین آکر پٹیل کا کہنا ہے کہ حکام نے مواصلاتی رابطے منقطع کر کے اور ناکہ بندیاں کھڑی کر کے بنیادی شہری حقوق سلب کیے اور پرامن مظاہرین کے جمہوری حق کو طاقت سے کچلا۔