ممبئی( شو بز ڈیسک)معروف بھارتی فلم ساز اور ہدایتکار امتیاز علی نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی میں زمانۂ طالب علمی کے دوران وہ ایک سیاسی تنازع کے باعث اغوا کا شکار ہو گئے تھے، تاہم بعد میں یہی واقعہ ان کے لیے ایک یادگار تجربہ بن گیا۔اپنی نئی رومانوی فلم کی تشہیری مہم کے دوران بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 55 سالہ امتیاز علی نے بتایا کہ کالج کے زمانے میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث وہ ایک غیر متوقع صورتحال میں پھنس گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہاسٹل کی دیوار پر ایک سیاسی پوسٹر لگایا گیا تھا، جسے انہوں نے سامنے کی دیوار سے ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ اس معمولی واقعے کو بعض افراد نے غلط انداز میں لیا اور چند روز بعد انہیں زبردستی ایک ویران سرکاری عمارت میں لے جایا گیا۔امتیاز علی کے مطابق وہاں ایک سیاسی گروہ کے رہنما نے ان سے پوچھ گچھ کی۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ انہوں نے پوسٹر پھاڑا نہیں بلکہ صرف دوسری جگہ منتقل کیا تھا تو انہیں آزاد کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ واقعہ خطرناک ثابت ہو سکتا تھا، لیکن بعد میں اس کے نتیجے میں ان کے کئی نئے دوست بنے اور یہ تجربہ ان کی زندگی کی یادگار باتوں میں شامل ہو گیا۔فلم ساز نے اپنے طالب علمی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں جامعہ کی سیاست میں شدید کشیدگی پائی جاتی تھی اور مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان رقابت عام تھی۔اپنی نئی فلم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امتیاز علی نے بتایا کہ یہ کہانی پنجاب، تقسیمِ ہند کے اثرات، ماضی اور حال کے درمیان تعلق، موسیقی اور سرحدوں سے ماورا محبت جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ معروف گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کے ساتھ ان کی دوسری مشترکہ پیشکش ہے، جبکہ موسیقی کے لیے ایک بار پھر اے آر رحمان اور نغمہ نگار ارشاد کامل کے ساتھ تعاون کیا گیا ہے، جن کے ساتھ وہ ماضی میں کئی کامیاب فلموں میں کام کر چکے ہیں۔