طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت: بدخشان کے علاقے زیبک میں شدید جھڑپیں، 15 ہلاک

طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت: بدخشان کے علاقے زیبک میں شدید جھڑپیں، 15 ہلاک

Jul 24, 2026|ویب ڈیسک

کابل — افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی ہے۔ بدخشان کا ضلع یفتل کے بعد اب زیبک طالبان مخالف گروپس کی شدید کارروائیوں کا نیا مرکز بن گیا ہے، جس سے خطے میں طالبان انتظامیہ کی گرفت کمزور پڑنے کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ضلع زیبک کے علاقے 'توپ خانہ' میں طالبان کی سکیورٹی چوکیوں پر طالبان مخالف فورسز نے مربوط اور شدید حملہ کیا۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 15 طالبان اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لڑائی دیگر ملحقہ علاقوں تک پھیلنے کا شدید خدشہ ہے۔

یفتل اور زیبک میں اہم پیش رفت

زیبک میں حالیہ پیش رفت سے قبل مزاحمتی گروپ 'سپاہیانِ میہن' نے بدخشان کے ضلع یفتل میں ایک بڑی کارروائی کی تھی، جس کے دوران ضلعی ہیڈکوارٹر، پولیس اسٹیشن اور انٹیلی جنس دفاتر کا عارضی طور پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران فورسز نے طالبان کا پرچم اتار کر بھاری مقدار میں اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

"مسلسل اور منظم مزاحمتی حملے طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں سے عوام کی بڑھتی ہوئی بے زاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مقامی سطح پر مزاحمتی نیٹ ورکس نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ نئے گروپس بھی سامنے آ رہے ہیں۔" — مقامی ذرائع

پنجشیر سے کابل اور ہراتھ تک مزاحمت کا پھیلاؤ

افغانستان کی موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمتی تحاریک اب صرف پنجشیر یا اندراب تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کا دائرہ کار ملک کے بڑے حصوں تک پھیل چکا ہے:

شمالی اور شمالی مشرقی صوبے: بدخشان، تخار، قندوز، بغلان اور کاپیسا۔

مرکزی و اہم شہری مراکز: کابل، بلخ اور ہرات۔

بدخشان میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے طالبان رجیم کے لیے شدید سکیورٹی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جبکہ طالبان مخالف گروپس کا مسلسل پھیلتا ہوا دائرہ کار افغانستان میں ایک وسیع اور منظم تحریک کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے