فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا اخلاقی بے حسی ہے،  خواجہ آصف

فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

Jul 14, 2026|ویب ڈیسک

مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاستدان ہیں، ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع تھی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام

​اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ملک و قوم کے لیے جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی قربانیوں کی کھلی توہین قرار دے دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک اہم پیغام میں وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کے موقف کو شدید الفاظ میں مسترد کیا۔

جان کی قربانی تنخواہ کے لیے نہیں، نظریے کے لیے ہوتی ہے

​خواجہ آصف نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں کو ان کی ملازمت یا تنخواہ سے مشروط کرنا انتہائی غیر منصفانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا:

​"کوئی بھی شخص محض ایک تنخواہ کی خاطر اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی اپنی جان قربان نہیں کرتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے ہمیشہ ایک گہرا نظریہ، عقیدہ، اپنے فرض کی ادائیگی اور وطن سے سچی وابستگی ہوتی ہے۔"

​وزیر دفاع نے مزید واضح کیا کہ سیاسی قائدین یا عام شہریوں کو ملکی حالات، واقعات یا کسی خاص طریقہ کار سے اختلاف کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن اس اختلاف کی آڑ میں ملکی بقا کے لیے دی جانے والی محبت، وابستگی اور عظیم قربانی کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

ہزاروں شہداء، غازیوں اور بیواؤں کے جذبات مجروح ہوئے

​ملک میں جاری امن و امان کی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب بھی پوری شدت سے جاری ہے، جس میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے جوان اور عام شہری روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

​اہم نکات (Key Takeaways):

​اخلاقی بے حسی: مولانا فضل الرحمان کا بیان سیاسی تنقید کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ ایک اخلاقی بے حسی کا مظہر ہے۔

​جذبات کو ٹھیس: اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے نہ صرف ایک ادارے بلکہ ہزاروں شہداء، غازیوں، بیواؤں اور یتیم بچوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔

​ذمہ داری کا تقاضا: مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر مذہبی اور سیاسی رہنما سے الفاظ کے چناؤ میں انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔