مودی کے غیر ملکی دورے عالمی رسوائی کا سبب بننے لگے
الجزیرہ کی رپورٹ: بھارتی وزیر اعظم کا غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنے سے مسلسل گریز
نئی دہلی — بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ذاتی مفاد اور تشہیر کے لیے کیے جانے والے بیرون ممالک کے دورے سفارتی کامیابیوں کے بجائے عالمی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بننے لگے ہیں۔ عالمی میڈیا اور نامور صحافیوں نے مودی کے ان غیر ملکی دوروں کو محض اندرون اور بیرون ملک ذاتی تشہیر کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم آزاد اور خود مختار میڈیا کے تیکھے سوالات سے مسلسل بھاگ رہے ہیں۔
دو ماہ میں میڈیا سے فرار کا تیسرا بڑا واقعہ
عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی دوروں کے دوران مودی کا صحافت کا سامنا نہ کرنے کا رویہ اب عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ رپورٹ میں درج ذیل اہم واقعات کی نشان دہی کی گئی ہے:
نیوزی لینڈ کا دورہ: نیوزی لینڈ کے ایک مقامی صحافی نے سرکاری دورے کے دوران مودی کی جانب سے میڈیا کا سامنا نہ کرنے پر براہِ راست سوال اٹھا دیا۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں مودی کا بین الاقوامی میڈیا سے فرار کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔
آسٹریلیا کا دورہ: دورہ نیوزی لینڈ سے قبل، آسٹریلیا میں بھی مودی نے آسٹریلوی میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے صاف گریز کیا تھا۔
ناروے کا دورہ: اس سے قبل ناروے کے دورے کے دوران خاتون صحافی 'ہیلے لنگ' کی جانب سے مودی سے براہِ راست سوال پوچھنے کی کوشش نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی۔
پریس فریڈم انڈیکس: الجزیرہ کے مطابق، سال 2026 کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس (آزادی صحافت کی فہرست) میں بھارت دنیا کے 180 ممالک میں 157 ویں نمبر پر چلا گیا ہے، جو ملک میں صحافتی آزادی کے سنگین بحران کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارتی صحافیوں اور اپوزیشن کا 'گودی میڈیا' پر شدید ردعمل
بھارت کے اندر سے بھی اس رویے پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ معروف بھارتی صحافی سنگیتا بروا پشاروتی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 11 سالوں میں بھارت کے اندر صحافت کے نام پر جو 'گودی میڈیا' کا نظام قائم کیا گیا تھا، اب وہ عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں ہے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔
اس حوالے سے بھارتی صحافی غزالہ وہاب نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا:
"بھارت میں جمہوریت کی آڑ میں میڈیا کی آزادی سلب کرنے سے لے کر اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے تک، ہر منفی اقدام کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔"
دوسری جانب، بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مودی کی جانب سے عالمی اور مقامی میڈیا کے سوالات کا جواب نہ دینے کو ملک میں جواب دہی اور جمہوری اقدار کے مکمل فقدان سے تعبیر کیا ہے