جنرل سمیع سادات کا افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے ملٹری آپریشنز کا اعلان
کابل/واشنگٹن (ویب ڈیسک): افغانستان پر طالبان کی حکومت کے تقریباً پانچ سال مکمل ہونے کے بعد ملک میں سب سے منظم مسلح مزاحمت کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ 'افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ' نے طالبان کے خلاف ملک گیر فوجی کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
افغان نیشنل آرمی کی رسمی وردی زیبِ تن کیے اور افغان سہ رنگی قومی پرچم کے ساتھ منظرِ عام پر آتے ہوئے سابق سینئر ملٹری کمانڈر جنرل سمیع سادات نے کابل وقت کے مطابق صبح 5 بجے تمام محاذوں پر طالبان کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے باضابطہ احکامات جاری کیے۔
فوجی کارروائیوں کا پہلا مرحلہ اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی
جنرل سمیع سادات کے مطابق طالبان سے تمام سیاسی اور سفارتی مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ عالمی برادری نے پانچ سال تک افغان عوام اور سول سوسائٹی کی دہائی کو نظرانداز کیا۔
ملٹری آپریشن کے اہم خدوخال
ابتدائی ہدف: ملٹری آپریشنز کے پہلے مرحلے میں طالبان کے ملٹری اڈوں، مسلح ارکان اور مرکزی قیادت کو ہدف بنایا جائے گا۔
مرحلہ وار پیش قدمی: ابتدائی حملوں کے بعد جنگی دائرہ کار کو ملک کے دیگر اضلاع تک پھیلایا جائے گا۔
کثیر الجہتی جدوجہد: فوجی کارروائیوں کو سیاسی، سفارتی اور عوامی متحرک سازی کے ساتھ ملا کر حتمی آزادی حاصل کی جائے گی۔
"طالبان کی جابرانہ حکمرانی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی واپسی"
جنرل سمیع سادات نے الزام عائد کیا کہ طالبان کی حکمرانی میں عالمی دہشت گردی افغانستان واپس لوٹ چکی ہے اور ملک کے قدرتی وسائل لوٹ کر دہشت گرد تنظیموں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا:
"ہماری جنگ آزادی کی جنگ ہے۔ افغان عوام پانچ سال سے ناقابلِ بیان انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ شہری اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لیں اور سہ رنگی پرچم تلے متحد ہو کر ملک کے مستقبل کی جنگ لڑیں۔"
ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور افغان نیشنل آرمی کا تسلسل
جنرل سادات نے واضح کیا کہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ دراصل افغان نیشنل آرمی کا ہی پیشہ ورانہ اور محبِ وطن تسلسل ہے جس کی قیادت تجربہ کار افغان جرنیل کر رہے ہیں۔
علاقائی و عالمی سطح پر اہم پیغامات
ہمسایہ ممالک کا تحفظ: ہم اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے خلاف نہیں ہیں؛ طالبان ہی خطے میں دہشت گرد گروہوں کو منظم اور معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
دہشت گردی سے نبرد آزمائی: یونائیٹڈ فرنٹ کسی غیر ملکی فوج یا غیر ملکی اڈوں کا طالب نہیں، بلکہ صرف سیاسی و مادی تعاون کا متلاشی ہے تاکہ طالبان، القاعدہ، داعش اور ٹی ٹی پی (TTP) کا خاتمہ کیا جا سکے۔
حتمی آئینی مقصد: 2004 کے آئین، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور روایتی لویہ جرگہ کی بنیاد پر ایک آزاد اور آئینی افغانستان کو بحال کرنا فرنٹ کا حتمی ہدف ہے