کوئٹہ کے سول ہسپتال میں نوجوان معالج ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا تیزاب حملہ محض ایک فرد پر تشدد نہیں، بلکہ انسانیت، تہذیب اور اجتماعی ضمیر پر ایک ہولناک حملہ ہے۔ ایک ایسی خاتون جو بیماروں کی خدمت، زخمیوں کی تیمارداری اور دکھی انسانیت کے لیے اپنی صلاحیتیں وقف کیے ہوئے تھی، خود سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ یہ واقعہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ شرم اور لمحۂ فکریہ ہے۔
تیزاب گردی دنیا کے بدترین جرائم میں شمار ہوتی ہے۔ قاتل اپنے شکار کی جان تو شاید نہ لے سکے، مگر اس کا مقصد چہرہ، شناخت، اعتماد اور مستقبل کو مسخ کرنا ہوتا ہے۔ تیزاب کے زخم جلد پر نہیں رکتے؛ وہ روح تک اتر جاتے ہیں۔ کئی متاثرین برسوں تک سرجریوں، نفسیاتی اذیت، معاشرتی تعصب اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک لمحے کی درندگی کسی انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
یہ سانحہ اس لیے مزید تکلیف دہ ہے کہ اس کا شکار ایک ڈاکٹر ہے۔ معالج معاشرے کے ان لوگوں میں شامل ہوتے ہیں جو نسل، مذہب، زبان اور طبقے سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ اگر ہسپتال جیسی جگہ بھی ایک خاتون ڈاکٹر کے لیے محفوظ نہ رہے تو پھر سوال صرف ایک فرد کے تحفظ کا نہیں، پورے نظام کے تحفظ کا بن جاتا ہے۔
پاکستان میں تیزاب گردی کا مسئلہ نیا نہیں۔ مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایسڈ سروائیورز فاؤنڈیشن پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں افراد تیزاب گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ 2007 سے 2018 کے درمیان رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد تقریباً پندرہ سو کے قریب رہی۔ اگرچہ سخت قوانین، عدالتی کارروائیوں اور عوامی شعور میں اضافے کے باعث ان حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن یہ ناسور ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ہر نیا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک بھی متاثرہ شخص بہت زیادہ ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ ایک اور تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے: خواتین کے خلاف تشدد۔ جب کسی عورت کی کامیابی، آزادی، تعلیم یا خودمختاری کو بیمار ذہنیتیں برداشت نہیں کر پاتیں تو انتقام اور نفرت کے راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔ تیزاب پھینکنا طاقت کی نہیں بلکہ انتہائی بزدلی، اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت سے محرومی کی علامت ہے۔
اگر ہم واقعی اس جرم کا خاتمہ چاہتے ہیں تو چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔
سب سے پہلے، تیزابی مادوں کی فروخت، خریداری اور ترسیل پر انتہائی سخت نگرانی اور لائسنسنگ کا نظام نافذ کیا جائے۔ ہر خرید و فروخت کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے تاکہ ایسے مواد کا غلط استعمال روکا جا سکے۔
دوسرے، تیزاب گردی کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ متاثرین کو فوری اور مؤثر انصاف مل سکے۔ انصاف میں تاخیر اکثر متاثرین کے زخموں کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
تیسرے، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں خواتین کے تحفظ کے لیے جدید اور مؤثر سکیورٹی نظام نافذ کیا جائے، خصوصاً ان پیشوں میں جہاں خواتین عوامی سطح پر خدمات انجام دیتی ہیں۔
چوتھے، متاثرین کو مفت علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی مدد اور معاشی بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ عزت اور اعتماد کے ساتھ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
پانچویں، نصابِ تعلیم، میڈیا، مذہبی اداروں اور سماجی پلیٹ فارمز کے ذریعے احترامِ انسانیت، خواتین کے حقوق اور عدم تشدد کے تصورات کو فروغ دیا جائے۔ جب تک ذہن تبدیل نہیں ہوں گے، قوانین اکیلے کافی ثابت نہیں ہوں گے۔
تاہم سب سے اہم جنگ قانون کی نہیں بلکہ ذہنوں کی ہے۔ جب تک ہم اپنی نئی نسل کو یہ نہیں سکھائیں گے کہ کسی انسان کا "انکار" بھی قابلِ احترام ہے، جب تک عورت کو مکمل وقار اور برابری کے ساتھ قبول نہیں کیا جائے گا، اور جب تک انتقام کو مردانگی سمجھنے والی سوچ کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک ایسے جرائم مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں گے۔
اس تاریکی میں ایک امید کی کرن بھی موجود ہے۔ ہر وہ شخص جس نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی مدد کی، ہر وہ معالج جو ان کے علاج میں مصروف ہے، اور ہر وہ شہری جو ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے، انسانیت کے روشن چہرے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہی لوگ ہمارے معاشرے کی اصل طاقت ہیں۔
آج پوری قوم کی دعائیں ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ ہیں۔ ہم ان کی جلد صحت یابی، مکمل بحالی اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی کی طرف واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔ لیکن دعا کے ساتھ عہد بھی ضروری ہے؛ عہد اس بات کا کہ کسی اور بیٹی، بہن، طالبہ، ڈاکٹر یا خاتون کو ایسے ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تیزاب چہروں کو جلا سکتا ہے، مگر ایک مہذب قوم کا فرض ہے کہ وہ مظلوموں کی امید، وقار اور مستقبل کو جلنے نہ دے۔ اگر ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا دکھ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بیدار کر دے، تو شاید یہ سانحہ ایک بہتر اور زیادہ محفوظ پاکستان کی بنیاد بن سکے۔
"