طالبان کے خلاف مزاحمتی تحریکیں تیز: اندرونی اختلافات اور مقامي دھڑوں کی بغاوت شدید
افغانستان کے مختلف صوبوں میں قابض طالبان رجیم کے خلاف آزادی پسند تحریکوں اور مسلح گروپوں کی کارروائیوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مرکزی قیادت اور مقامی دھڑوں کے درمیان دراڑیں مزید گہری ہو گئی ہیں۔ بدخشان میں ایک ہی ہفتے کے اندر ضلعی گورنر قاری مطیع الرحمان کی برطرفی نے طالبان انتظامیہ کے اندرونی خلفشار اور عدم اعتماد کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔
نئے مسلح گروپ کی آمد اور بدخشان میں شدید کشیدگی
افغان ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایک نئے مسلح گروپ "سپاہیانِ میہن" نے بدخشان کے اہم ضلع یفتلی سفلی پر قبضہ کر کے اپنی باضابطہ فعال موجودگی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے دھڑے میں سابق افغان سیکیورٹی اہلکار اور مقامی باشندے شامل ہیں جو طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل (SATP) کی جامع رپورٹ کے مطابق طالبان کی مرکزی قیادت اور جمعہ خان فاتح کے حامیوں کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ دوسری جانب نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) بھی بدخشان سمیت مختلف صوبوں میں متحرک ہیں۔ این آر ایف کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کی گئی حالیہ ویڈیو میں مسلح دستوں کو حساس علاقوں میں گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جسے عالمی ماہرین طالبان رجیم کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
اہم نکات
نیا مزاحمتی محاذ: "سپاہیانِ میہن" نامی نیا گروپ بدخشان میں فعال، سابق سیکیورٹی اہلکار اور مقامی باشندے شامل۔
اندرونی خلفشار: ضلعی گورنر قاری مطیع الرحمان کی تقرری کے محض ایک ہفتے بعد اچانک برطرفی سے انتظامی بحران نمایاں۔
مزاحمتی گروپوں کا تحرک: نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے اہم ترین علاقوں میں گشت اور کارروائیاں جاری۔