طالبان کے 5 سالہ اقتدار میں انسانی حقوق پامال، فرانس کی شدید مذمت
طالبان کے 5 سالہ اقتدار میں انسانی حقوق پامال، فرانس کی شدید مذمت
پیرس / کابل: فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے 5 سال مکمل ہونے پر ملک میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، خواتین پر عائد پابندیوں اور سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان رجیم کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے دور میں افغانستان گہرے انسانی، معاشی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہو چکا ہے، جس کے باعث خطے کا امن اور استحکام شدید خطرات سے دوچار ہے۔
خواتین پر پابندیاں اور انسانی بحران: فرانس کا مؤقف
فرانسیسی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان خواتین اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کے لیے مسلسل امتیازی قوانین اور پابندیاں نافذ کر رہے ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کے سراسر منافی ہے۔
"جب تک انسانی حقوق کی مکمل پاسداری اور دہشت گردی کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاتا، طالبان رجیم کے ساتھ عالمی تعلقات کا معمول پر آنا ممکن نہیں۔"
— وزارتِ خارجہ، فرانس
فرانسیسی بیان کے اہم نکات:
بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی: فرانس نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں پر فوری عمل درآمد کریں۔
علاقائی امن کو خطرہ: افغانستان کے موجودہ اندرونی حالات پورے خطے کی سلامتی اور معاشی استحکام کو متاثر کر رہے ہیں۔
دہشت گردی کی سرپرستی: کالعدم گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کے بغیر سفارتی سطح پر پیش رفت ناممکن ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی
انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور شدت پسندانہ رویوں کے باعث طالبان رجیم عالمی سطح پر ایک ناپسندیدہ ریاست (International Pariah State) کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ فرانس کی اس حالیہ مذمت سے قبل اقوامِ متحدہ کے 56 رکن ممالک بھی افغان طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر مشترکہ مذمتی بیان جاری کر کے فوری اصلاحات کا مطالبہ کر چکے ہیں