تعلیمی تباہی اور پیپر لیک اسکینڈل: بھارتی نوجوان مودی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج

تعلیمی تباہی اور پیپر لیک اسکینڈل: بھارتی نوجوان مودی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج

Jul 21, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی نظام کی نااہلی، پیپر لیک اسکینڈل اور بڑھتی ہوئی طلبہ خودکشیوں کے بعد مودی حکومت کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہزاروں طلبہ، والدین، سیاسی اور سماجی کارکنان تعلیمی اصلاحات اور انصاف کے لیے پارلیمنٹ کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔


پولیس تشدد اور لاٹھی چارج

برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی پولیس نے طلبہ کے پرامن پارلیمنٹ مارچ کو روکنے کے لیے بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، تاہم مظاہرین کے جذبے کے سامنے پولیس کی کارروائی ناکام دکھائی دیتی ہے۔


سونم وانگچک کی جبری گرفتاری اور مطالبۂ استعفیٰ

معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو زبردستی ہسپتال منتقل اور گرفتار کیے جانے کے بعد طلبہ میں شدید اشتعال پھیلا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:


"پولیس کی وردی میں ملبوس آر ایس ایس کے عناصر نے سونم وانگچک کو جبری طور پر حراست میں لے کر انتہائی بزدلانہ حرکت کی ہے۔ اس قابلِ مذمت اقدام کے بعد ہم صرف وزیرِ تعلیم کے نہیں، بلکہ نااہل وزیراعظم نریندر مودی کے فوری استعفے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔"


اہم نکات اور اسکینڈل کے حقائق

متاثرہ طلبہ: میڈیکل داخلہ امتحانات کے پیپر لیک ہونے کی وجہ سے تقریباً 22 لاکھ 80 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔


جان لیوا بحران: پیپر لیک اسکینڈل کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ اور ناامیدی کے باعث 20 سے زائد طلبہ خودکشی کر چکے ہیں۔


عوامی مطالبات: تعلیمی نظام کی شفافیت، ذمے داران کا محاسبہ اور وزیراعظم مودی کا استعفیٰ۔


موجودہ صورتِ حال نے بھارتی تعلیمی نظام کے کھوکھلے پن اور مودی حکومت کی انتظامی نااہلی کو عالمی سطح پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے