افغانستان میں جابرانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی منظم پامالی کا پردہ چاک

افغانستان میں جابرانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی منظم پامالی کا پردہ چاک

Jul 30, 2026|ویب ڈیسک

کابل / نیویارک — اقوام متحدہ نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک تفصیلی اور تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں طالبان انتظامیہ کے دورِ حکومت میں شہریوں کی بنیادی آزادیوں پر سلب کی جانے والی سخت پابندیوں، میڈیا سنسرشپ اور خواتین کی حقوق کشی کے بھیانک حقائق کو عالمی برادری کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔


رپورٹ کے مطابق افغانستان میں انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے کی جگہ مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے، جبکہ ریاستی جبر کا دائرہ کار روز بروز وسیع کیا جا رہا ہے۔


خواتین پر ظالمانہ قوانین اور "فرمان نمبر 18" کے نفاذ کے اثرات

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کے نئے فرمان نمبر 18 کے تحت خواتین کے نکاح، طلاق اور علیحدگی کے بنیادی قانونی حقوق کو مزید محدود کر دیا گیا ہے، جس کے تحت عورت کے لیے خلع لینا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے جبکہ کم عمر بچوں کی شادی کو جائز قرار دیا گیا ہے۔


اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق: "صوبہ ہرات میں پولیس امر بالمعروف نے 'غیر مناسب حجاب' کے الزام میں کم از کم 30 خواتین کو حراست میں لیا۔ خواتین کے لیے مکمل جسم ڈھانپنا لازم، جبکہ زیورات پہننے اور خوشبو لگانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دکانوں، اسپتالوں اور ہیلتھ ورکرز کے لیے 'محرم' کی شرط لازمی قرار دے دی گئی ہے۔"


کوڑوں کی سزائیں، گرفتاری اور مذہبی اقلیتوں پر مظالم

اگرچہ طالبان انتظامیہ نے جسمانی سزاؤں کی عمومی تشہیر بند کر دی ہے، تاہم کوڑے مارنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور رپورٹنگ کی مدت کے دوران 137 افراد کو جسمانی سزائیں دی گئیں، جن میں سے چھ افراد کو رمضان المبارک میں روزہ توڑنے پر سرعام کوڑے مارے گئے۔


رپورٹ کے نمایاں اور اہم نکات:


ماورائے عدالت کارروائیاں: گزشتہ تین ماہ کے دوران 29 من مانی گرفتاریاں، تشدد کے 5 سنسنی خیز واقعات اور 8 ماورائے عدالت ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔


میڈیا اور ڈیجیٹل سنسرشپ: متعدد میڈیا ہاؤسز کی نشریات معطل اور بند کر دی گئیں، مواصلاتی سامان ضبط کر لیا گیا اور صحافیوں کو بغیر الزامات کے گرفتار کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کے اسمارٹ فونز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔


مذہبی اقلیتوں پر قدغن: بدخشان میں اسماعیلی برادری کی عبادت گاہیں بند یا مساجد میں تبدیل کر دی گئیں، جبکہ محرم الحرام اور عاشورہ کی تقریبات پر سخت پابندیاں، بلیک آؤٹ اور شیعہ شہریوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔


شہری قوانین کی خلاف ورزیاں: حجاب کی خلاف ورزی، چھوٹی داڑھی رکھنے اور موسیقی سننے کے جرم میں 389 مرد و خواتین کو مختلف سزائیں سنائی گئیں