بلوچستان کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ خیرالنساء کھیل کے میدانوں میں نئی تاریخ رقم کرنے لگیں
کوئٹہ: بلوچستان میں روایتی اور ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے خیرالنساء صوبے کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ وہ خطے کی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مشعلِ راہ بن چکی ہیں اور خواتین کرکٹ کو نچلی سطح سے فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی زیرِ نگرانی صوبے کی ابھرتی ہوئی کرکٹرز کے اعتماد اور حوصلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
باصلاحیت بیٹیوں کو قومی دھارے میں لانے کا مشن
خیرالنساء کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی پہلی خاتون کرکٹ کوچ بننا ان کے لیے ایک اعزاز اور باعثِ فخر سنگ میل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی بیٹیوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے نکھارنے کے لیے محض درست رہنمائی اور مواقع درکار ہیں۔
کوچ خیرالنساء کے اہم نکات اور عزائم:
قومی و بین الاقوامی اہداف: "میرا واحد مقصد بلوچستان کے دور دراز علاقوں کی باصلاحیت بیٹیوں کو قومی اور عالمی کرکٹ کے میدانوں تک پہنچانا ہے۔"
کامیابی کا معیار: "اگر میری تربیت یافتہ کوئی ایک کھلاڑی بھی پاکستان کی قومی ویمن ٹیم کی نمائندگی کرتی ہے، تو یہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔"
معاونت کا اعتراف: "کھیلوں کے میدانوں میں خواتین کی شمولیت اور حوصلہ افزائی کے حوالے سے پاک فوج کا عملی کردار انتہائی قابلِ تحسین ہے۔"
اکیڈمی کھلاڑیوں کا ردعمل اور مستقبل کی راہیں
اکیڈمی کی نوجوان خواتین کھلاڑیوں نے اپنی کوچ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیرالنساء ہر کھلاڑی کی تکنیک اور فٹنس پر انفرادی توجہ دیتی ہیں۔ کھلاڑیوں کے مطابق:
"کوچ خیرالنساء کی پیشہ ورانہ تربیت نے ہمارے کھیل اور سوچ دونوں کو تبدیل کیا ہے۔"
"ہمیں کھیل کی جدید تکنیک سیکھنے اور اپنی مہارتوں کو نکھارنے کے بہترین مواقع میسر آ رہے ہیں۔"
خیرالنساء کا سفر اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ عزم، مسلسل محنت اور جستجو کے ذریعے ہر طرح کی معاشرتی رکاوٹوں کو عبور کر کے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے