وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ریاست مخالف پروپیگنڈے کی نفی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ریاست مخالف پروپیگنڈے کی نفی

Aug 12, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ — وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے 'سمر انٹرن شپ پروگرام 2026' کے سیشن میں شرکت کر کے ملک بھر کے ہزاروں طلبہ و طالبات سے خصوصی گفتگو کی۔ اس پروگرام میں پاکستان بھر کے 21 اسٹیشنز سے 6,150 سے زائد طلبہ و طالبات نے آن لائن و بالمشافہ شرکت کی۔


اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بلوچستان میں امن و امان، فتنہ الہندوستان، ریاست مخالف پروپیگنڈا، افغان سرحدی صورتحال اور گڈ گورننس جیسے اہم قومی و علاقائی موضوعات پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔


فتنہ الہندوستان اور ریاست مخالف بیانیے کا متبادل

طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور پائیدار امن کو سیکیورٹی فورسز کی مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے یقینی بنایا جا رہا ہے:


دہشت گردی کا خاتمہ: بلوچستان میں 'فتنہ الہندوستان' اور دیگر شدت پسند عناصر تشدد کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔


انسانی حقوق کے عنوان کا استحصال: مسنگ پرسنز اور دیگر حساس عنوانات کو ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل اور دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


سیکیورٹی فورسز کی حکمتِ عملی: حکومتِ بلوچستان اور پاک افواج مربوط حکمتِ عملی کے تحت دہشت گردی اور علیحدگی پسند عناصر کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔


افغان عبوری حکومت سے مطالبہ: افغانستان میں موجود پاکستان مخالف عناصر کی روک تھام کے لیے افغان عبوری حکومت کو اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔


بلوچستان کا مستقبل اور پاکستان سے وابستگی

وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کے بجائے سچائی اور حق کا ساتھ دیں:


"مقبول بیانیہ ہمیشہ حق کا بیانیہ نہیں ہوتا، پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہی حق کا ساتھ دینا ہے۔ بلوچستان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے، اور بلوچ عوام کی ترقی، خوشحالی اور بقا پاکستان کی مضبوطی میں ہے۔ علیحدگی پسند بیانیے کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔"


— میر سرفراز احمد بگٹی، وزیراعلیٰ بلوچستان


نمایاں نکات

طلبہ کی بڑی تعداد: سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت ملک بھر سے 6,150 سے زائد طلبہ کی شمولیت۔


ریاستی بیانیے کی وضاحت: مسنگ پرسنز کے معاملے کو سیاسی و دہشت گردانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی نفی۔


بین الاقوامی پاسداری: افغان عبوری حکومت کو اپنے خطے کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یاد دہانی