سانحہ زیارت دھرنا، حکومتی وفد اور لواحقین میں مذاکرات کا اہم دور شروع
کوئٹہ (ویب ڈیسک): سانحہ زیارت کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے مطالبات پر پیشرفت کے لیے حکومتی وفد اور کمیٹی ارکان کے درمیان مذاکرات کا اہم دور کوئٹہ میں شروع ہو گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں جاری دھرنے کو ختم کروانے اور لواحقین کے تحفظات دور کرنے کے لیے دونوں جانب سے اعلیٰ سیاسی قیادت مذاکراتی میز پر موجود ہے۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق، حکومتی وفد اور دھرنا کمیٹی کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ مذاکرات اب انتہائی اہم مراحل میں داخل ہو گئے ہیں۔
مذاکراتی وفود میں شامل اہم شخصیات
مذاکرات کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں جانب سے بااثر اور اعلیٰ سطحی نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے:
حکومتی وفد کے اراکین:
صوبائی وزراء: میر ضیاء اللہ لانگو، میر صادق عمرانی، بخت محمد کاکڑ، میر سلیم کھوسہ، اور عاصم کرد گیلو۔
پارلیمانی و سیاسی رہنما: رکنِ اسمبلی اسفندیار کاکڑ، سینیٹر منظور کاکڑ، اور بلال کاکڑ سمیت دیگر اہم شخصیات۔
دھرنا کمیٹی اور لواحقین کے نمائندے:
قوم پرست اور مذہبی قیادت: عبدالرحیم زیارتوال، اصغر خان اچکزئی، آغا حسن بلوچ، مولانا عبدالقادر لونی، اور دیگر قائدین۔
جوڈیشل کمیشن اور مطالبات پر پیشرفت
معاونِ داخلہ بابر یوسفزئی نے میڈیا کو بتایا کہ حکومتی وفد نے لواحقین اور دھرنا کمیٹی کو جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت دیگر اہم مطالبات پر اب تک ہونے والی حکومتی پیشرفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام آئینی اور قانونی مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء کو مطمئن کیا جائے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔