افغان خواتین کے بعد اب نوجوانوں کا مستقبل بھی تاریک
کابل / نیویارک: افغانستان میں طالبان رجیم کی جانب سے خواتین پر تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کرنے کے بعد اب افغان نوجوانوں کو بھی بنیادی حقِ تعلیم سے محروم کر کے ان کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی میڈیا نے افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور تعلیمی نظام کی مکمل تباہی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ (UNESCO) کی رپورٹ: اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ریکارڈ گراوٹ
اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (UNESCO) نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے افغانستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں شدید ترین کمی واقع ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا اس حوالے سے کہنا ہے
"افغان طالبان رجیم نے لاکھوں شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی کی ہے۔"
تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور سخت قوانین:
وحشیانہ تشدد کا سامنا: افغان طلبہ کے مطابق جامعات میں داڑھی اور لباس سے متعلق طالبان کے سخت ترین قوانین نافذ ہیں۔ ان ضوابط کی معمولی خلاف ورزی پر بھی طلبہ کو وحشیانہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پروفیسرز کا فرار اور معیارِ تعلیم کی تباہی: عالمی جریدے 'دی گارڈین' کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے تجربہ کار اور قابل پروفیسرز ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، جس کے باعث وہاں کی اعلیٰ جامعات کا تعلیمی معیار انتہائی حد تک گر چکا ہے۔
عالمی سرد مہری: 'دی گارڈین' نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ طالبان کے زیرِ اثر پڑھنے والے افغان طلبہ کی اس بدترین حالتِ زار پر کسی بھی بڑے عالمی فورم پر سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔
انسانی حقوق کا استحصال اور تاریک مستقبل
عالمی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق طالبان کا اصل مقصد تعلیمی اداروں کو مکمل طور پر مفلوج کر کے نئی نسل کو فکری اور عملی طور پر تباہ کرنا ہے۔ بھارتی صحافی دھرم جوت کے مطابق، روزگار اور تعلیم پر عائد کڑی پابندیاں افغان عوام کے بنیادی حقوق کا بدترین استحصال ہیں اور موجودہ افغان حکومت دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سب سے بدترین مثال بن چکی ہے