افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدت، شمالی صوبوں سے پیش قدمی کے دعوے
کابل — افغانستان کے شمالی اور شمالی مشرقی صوبوں میں افغان طالبان اور مخالف مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں یکدم شدت آ گئی ہے، جس نے طالبان انتظامیہ کے ملک بھر میں مکمل کنٹرول اور امن کے دعوؤں پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
این آر ایف کا نیا دعویٰ اور مضافاتی علاقوں میں پیش قدمی
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں سے نالاں افغان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان کی صفوں میں شامل ہو رہی ہے:
نوجوانوں کی شمولیت: این آر ایف کے مطابق بدخشاں، بلخ اور پنجشیر سمیت مختلف علاقوں سے 2 ہزار سے زائد نوجوانوں نے مزاحمتی تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
زیباک میں چوکی پر قبضہ: افغان صحافی عثمان بازگر کے مطابق فریڈم فرنٹ نے صوبہ بدخشاں کے علاقے زیباک میں طالبان کی ایک اہم سیکیورٹی چوکی کا کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مقامی مزاحمت: این آر ایف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بدخشاں کے مختلف حصے اب مقامی مزاحمتی فورسز کے زیرِ اثر آ رہے ہیں۔
طالبان کے دعوؤں پر تنقید اور علاقائی صورتحال
سابق افغان سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں میں عسکری تحرک نے طالبان کی سیکیورٹی حکمتِ عملی کی خامیاں اجاگر کر دی ہیں۔
فیاض غیاثی (سابق افغان سفارت کار): "افغانستان میں بنیادی آزادیوں کو کچل دیا گیا ہے، لیکن بدخشاں سمیت شمالی و شمال مشرقی صوبوں کو طالبان کے تسلط سے آزاد کرانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔"
دفاعی ماہرین کے مطابق بدخشاں اور گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں جاری یہ جھڑپیں اور گوریلا کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ افغانستان کے شمالی حصوں میں طالبان انتظامیہ کو طویل مدتی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے