تازہ ترین
بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے عالمی حامی کھل کر سامنے آگئے مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری کا نیا رخ؛ پاکستان کے ذریعے امریکا ایران مذاکرات، ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا انگلینڈ-بھارت ٹی ٹوئنٹی سیریز: میچز کے اوقات کار میں تبدیلی پاکستان خواتین کے دو انٹرنیشنل ٹینس ٹورنامنٹس کی میزبانی کرے گا شاہین شاہ آفریدی ٹیسٹ کیمپ سے باہر، وائٹ بال اسکواڈ میں شامل ثنا نواز کی نئی فیشن مہم سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی جاوید جعفری کی اہلیہ سرمایہ کاری کے نام پر کروڑوں روپے کے فراڈ کا شکار انیس بزمی نے ’نو انٹری 2‘ میں تاخیر کی وجہ بتا دی کنگنا رناوت نے فلموں میں خواتین کی پیشکش پر سوالات اٹھا دیے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی,بلوچ روایت کے چہرے پر سیاہ داغ افغان طالبان رجیم کا خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن؛ لباس کی آڑ میں جبری گرفتاریاں، عالمی برادری سراپا احتجاج اداروں اور سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال، معیشت استحکام کی جانب گامزن کی 3 سالہ کارکردگی: پاکستان کے شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلیاں اور ریکارڈ 42 ارب کا منافع SIFC کوئٹہ: وحدت کالونی میں گھریلو ناچاقی پر خاتون اور 4 بچوں کا قتل، صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کوئٹہ میں خاتون اور چار بچوں کے قتل پر وزیر داخلہ بلوچستان کا اظہارِ افسوس
بلوچستان خبر

ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی,بلوچ روایت کے چہرے پر سیاہ داغ


بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ سے بہادری رواداری اور اعلیٰ انسانی اقدار کی امین رہی ہے مگر افسوس کہ حالیہ برسوں میں بعض ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے نہ صرف اس خوبصورت روایت کو مجروح کیا بلکہ پورے معاشرے کو شرمندگی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا سول ہسپتال کوئٹہ میں دورانِ ڈیوٹی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والی تیزاب گردی کا افسوسناک واقعہ بھی انہی سانحات میں سے ایک ہے جو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے

ایک ایسی ڈاکٹر جو دن رات مریضوں کی خدمت اور انسانی جانوں کو بچانے کے مقدس فریضے میں مصروف تھی اس پر حملہ کرنا صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں پر وار ہے یہ بزدلانہ حرکت کھلی دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کے مترادف ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا تعلق ایک نہایت شریف باوقار اور عزت دار خاندان سے ہے ان کے والد حبیب اللہ ناصر ایک ایسے انسان ہیں جو اپنے علاقے اور محلے میں نیک نامی شرافت اور خدمت خلق کی وجہ سے جانے جاتے ہیں حبیب اللہ خان ناصر کئی دہائیوں سے ہمارے ہمسائے ہیں انہوں نے ہمیشہ دوسروں کے دکھ درد میں خود کو شریک رکھا اور کبھی کسی کے ساتھ تلخ رویہ اختیار نہیں کیا ایسے خاندان کی بیٹی پر یہ ظلم نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک اجتماعی صدمہ ہے اس اندوہناک واقعے کے دوران نوجوان رازق ترکئی نے جس جرات بہادری اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین اور قابلِ تقلید ہے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک بے گناہ انسان کی جان بچانے کی کوشش دراصل معاشرے میں امید کی ایک روشن کرن ہے ایسے نوجوان ہمارے معاشرے کا حقیقی سرمایہ اور فخر ہیں

اسی طرح وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی محکمہ صحت بلوچستان اور بلوچستان پولیس کی جانب سے فوری ردعمل اور ایس ایچ او سول لائن جواد حسین کی بروقت اقدامات بھی قابل ستائش ہیں متاثرہ ڈاکٹر کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ ان کی جان بچانے میں بیت اچھے اقدامات ہیں ایسے حساس مواقع پر ریاستی اداروں کی فوری کارروائی عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تاہم سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہماری بیٹیاں بہنیں ڈاکٹرز اساتذہ اور دیگر محنت کش خواتین تشدد کا نشانہ بنتی رہیں گی آخر کب تک تیزاب گردی یا خواتین کو ہراسانی قتل اور دیگر سفاک جرائم ہمارے معاشرے کو داغدار کرتے رہیں گے یہ محض قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے گھناؤنے جرائم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی درندہ صفت شخص کسی بیٹی یا بہن پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو بار سوچے گزشتہ روز پولیس کی طرف سے بر وقت کاروائی ایک بہترین اقدام تھا ایسے اقدام سے معاشرے میں یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ خواتین پر تشدد ناقابلِ معافی جرم ہے اور اس کے مرتکبین کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی ایسے عناصر کو معاشرتی اور قانونی سطح پر عبرت کا نشان بنانا وقت کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ بیٹیاں اور بہنیں صرف کسی ایک خاندان کی نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ عزت اور ذمہ داری ہوتی ہیں اگر آج ہم خاموش رہے تو کل یہ ظلم کسی اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹائے گا ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا حملہ ہم سب کے ضمیر کا امتحان ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف متحد ہوں انصاف کا ساتھ دیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر عورت خود کو محفوظ باعزت اور بااختیار محسوس کر سکے

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو جلد مکمل صحت عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و استقامت نصیب کرے آمین