تازہ ترین
نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے ذہنی امراض سے متعلق آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے: ماہرہ خان
بلوچستان خبر

بلڈ شوگر کو متوازن رکھنےوالا پانی

بلڈ شوگر کو متوازن رکھنےوالا پانی

ممبئی( ہیلتھ ڈیسک)ایک بھارتی سوشل میڈیا انفلوئینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 30 دن تک صبح خالی پیٹ زیرہ، سونف اور اجوائن کا پانی استعمال کر کے اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا۔انفلوئینسر کے مطابق اس تجربے کا مقصد وزن کم کرنا نہیں بلکہ میٹابولزم اور مجموعی صحت میں بہتری کو جانچنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تیاری کے لیے تینوں اجزا کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح ابال کر نیم گرم حالت میں استعمال کیا گیا۔پہلے ہفتے کے دوران انہوں نے بھوک میں کمی اور پیٹ پھولنے اور گیس کے مسائل میں بہتری محسوس کی۔ دوسرے ہفتے ان کے مطابق تیزابیت میں کمی دیکھی گئی اور خالی پیٹ استعمال کرنے سے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔تیسرے ہفتے میں انہوں نے توانائی میں اضافہ محسوس کیا جس کی وجہ ممکنہ طور پر بلڈ شوگر کے متوازن رہنے کو قرار دیا گیا۔ چوتھے ہفتے تک یہ معمول بن گیا اور ہاضمے اور بھوک پر مثبت اثرات برقرار رہے۔