تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

اے آئی ٹیکنالوجی کی بڑی پیش رفت: لبلبے کے کینسر کی تشخیص تین سال پہلے ممکن ہونے کا امکان

اے آئی ٹیکنالوجی کی بڑی پیش رفت: لبلبے کے کینسر کی تشخیص تین سال پہلے ممکن ہونے کا امکان

 اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید ماڈل تیار کیا ہے جو سی ٹی اسکینز کی مدد سے لبلبے کے کینسر کی ابتدائی علامات کو طبی تشخیص سے تقریباً تین سال پہلے تک شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔امریکا کے مایو کلینک سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق یہ نظام انسانی آنکھ سے پوشیدہ ایسے باریک طبی پیٹرنز کو بھی پہچان سکتا ہے جو عام طور پر روایتی تشخیص میں نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لبلبے کے کینسر کی بروقت تشخیص ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے کیونکہ ابتدائی علامات جیسے پیٹ درد اور وزن میں کمی اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب مرض پہلے ہی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ اس بیماری میں پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح صرف 13 فیصد ہے۔نئے تیار کردہ اے آئی سسٹم کو تقریباً ایک ہزار سی ٹی اسکینز کی مدد سے تربیت دی گئی، جن میں ایسے مریضوں کے ریکارڈ شامل تھے جن کا آغاز میں کسی اور بیماری کے لیے معائنہ کیا گیا تھا، مگر بعد میں ان میں لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔تحقیق کے دوران جب اس ماڈل کا موازنہ ماہر ریڈیولوجسٹس سے کیا گیا تو اس نے ابتدائی مرحلے میں بیماری کی نشاندہی میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔یہ اہم تحقیق معروف سائنسی جریدے *گَٹ* میں شائع ہوئی ہے، جسے ماہرین کینسر کی جلد تشخیص کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔