امریکی ٹیرف اور مودی کی خارجہ پالیسی کا امتحان
نئی دہلی/واشنگٹن (ویب ڈیسک): عالمی منظرنامے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور امریکی تجارتی دباؤ کے باعث بھارت کی توانائی پالیسی اور خارجہ امور شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ خلیجی صورتحال اور عالمی پابندیوں کے باوجود روس سے خام تیل کی خریداریاں جاری رکھنے پر مودی حکومت اندرونی اور بیرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق، امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک نئے مسودہ قانون کے بعد بھارت پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد ہونے کا تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔
امریکی سینیٹ کا بل اور سینیٹر رچرڈ بلومن تھال کا موقف
امریکی سینیٹ میں منظور ہونے والے سخت اقدامات پر مبنی اس بل کا بنیادی ہدف وہ ممالک ہیں جو روس سے بڑے پیمانے پر توانائی خرید کر اس کی معیشت کا سہارا بن رہے ہیں۔
امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال نے بھارتی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا:
"مودی حکومت کی غیر متوازن اور ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکی قانون سازی اور ٹیرف کی زد میں آنے والے ممالک میں بھارت سب سے نمایاں ہے۔ نئی دہلی توانائی کے تحفظ اور امریکی ٹیرف کے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں بالکل ناکام ہو چکی ہے۔"
بھارتی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل اور تسلیم شدہ حقائق
بھارتی جریدے وی آن نیوز (WION) کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ کے دوران اس بات کی تائید کی کہ موجودہ تناظر میں روسی تیل کی مسلسل درآمد اور عالمی دباؤ بھارتی معیشت کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔
معاشی اثرات اور بھارتی روپے پر دباؤ
• روپے کی قدر میں کمی: امریکی پابندیوں اور تجارتی ٹیرف کے خدشات نے بھارتی کرنسی پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔
• مہنگائی کی نئی لہر: توانائی کی آمدن پر دباؤ کی وجہ سے عام بھارتی شہری کے لیے زندگی مزید دشوار ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرینِ معاشیات کی تنبیہ: مہنگائی کے نئے طوفان کا خطرہ
بھارتی توانائی، تیل اور گیس کے نامور ماہر کیرت پاریخ کے مطابق:
"اگر امریکی ٹیرف اور پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے تو بھارتی روپے پر سٹرکچرل دباؤ مزید بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات سمیت بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گا جس کا براہِ راست بوجھ بھارتی عوام کو اٹھانا پڑے گا۔"
مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے لیے روس اور امریکہ کے درمیان توازن قائم رکھنا اب مزید ممکن نہیں رہا اور ان کی موجودہ خارجہ حکمتِ عملی بھارتی عوام کے لیے کڑی آزمائش بن چکی ہے