یونیسکو ریاض فورم میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال پر عالمی مکالمے کو آگے بڑھائے گا

یونیسکو ریاض فورم میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال پر عالمی مکالمے کو آگے بڑھائے گا

Aug 27, 2026|ویب ڈیسک


سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق یونیسکو کے چوتھے عالمی فورم کا انعقاد، 95 ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع


ریاض، جمعرات، 27 اگست 2026: اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم یونیسکو نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال سے متعلق عالمی مکالمے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنی بین الاقوامی کوششیں تیز کر دی ہیں، ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی دنیا بھر میں سماجی، معاشی اور انسانی حقوق سے متعلق نئے چیلنجز کو جنم دے رہی ہے۔


یونیسکو کی یہ کوششیں اس کی جانب سے 2021 میں اپنے 194 رکن ممالک کے تعاون سے منظور کی جانے والی مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق سفارشات پر استوار ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کو انسانی حقوق، انسانی وقار، انصاف، شفافیت اور شمولیت کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے ایک عالمی فریم ورک پیش کیا گیا تھا۔


یونیسکو کے مطابق جدید ٹیکنالوجیز کے غیر مساوی اور ممکنہ طور پر نقصان دہ اثرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال کو زیادہ محفوظ، منصفانہ اور جامع بنانے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔


اسی تناظر میں ریاض 14 سے 17 ستمبر 2026 تک مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق یونیسکو کے چوتھے عالمی فورم کی میزبانی کرے گا، جو مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور اخلاقی تکنیکی ترقی سے متعلق عالمی مباحثے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔


فورم کا انعقاد یونیسکو، سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (SDAIA) اور انٹرنیشنل سینٹر فار اے آئی ریسرچ اینڈ ایتھکس (ICAIRE) کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق یونیسکو کے عالمی فورم کی میزبانی کرنے والا پہلا عرب ملک ہوگا، جبکہ تقریب میں تقریباً 95 ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔


ریاض میں ہونے والا یہ فورم ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق عالمی مکالمے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جہاں پالیسی ساز، ٹیکنالوجی ماہرین، محققین اور دیگر متعلقہ فریق اپنے تجربات، مہارت اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کریں گے۔


فورم میں مصنوعی ذہانت کو پائیدار ترقی، معاشی مواقع اور سماجی خوشحالی کے فروغ کے لیے مؤثر ذریعہ بنانے کے عملی طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ جدید اور پیچیدہ AI ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے اخلاقی چیلنجز پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا۔


چار روزہ فورم کے دوران مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات و حکمرانی، استعدادِ کار میں اضافہ، ذمہ دارانہ جدت اور بین الاقوامی پالیسی فریم ورک سمیت اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔


پروگرام میں اعلیٰ سطح کے اجلاس اور خصوصی ورکشاپس بھی شامل ہوں گی، جن میں اخلاقی AI حکمرانی کے حوالے سے مختلف ممالک کے تجربات، بین الاقوامی اقدامات اور جدید طریقہ کار کو اجاگر کیا جائے گا۔


دنیا بھر سے معروف ماہرین اور پالیسی ساز فورم میں شرکت کریں گے اور اس امر پر اپنی آرا پیش کریں گے کہ ممالک مؤثر حکومتی و انتظامی نظام کس طرح تشکیل دے سکتے ہیں، تاکہ تکنیکی ترقی انسانی اقدار، معاشرتی مفادات اور بنیادی حقوق سے ہم آہنگ رہے۔


ریاض فورم ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مصنوعی ذہانت دنیا کی معیشتوں، سرکاری خدمات، تعلیم، صحت، اطلاعاتی نظام اور عالمی لیبر مارکیٹ میں تیزی سے تبدیلیاں لا رہی ہے، جبکہ جوابدہی، رازداری، امتیازی سلوک، گمراہ کن معلومات اور ٹیکنالوجی کے فوائد تک مساوی رسائی جیسے معاملات بھی عالمی سطح پر اہم سوالات بن چکے ہیں۔


فورم میں مختلف ممالک اور متعلقہ عالمی فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے حوالے سے زیادہ مربوط اور مشترکہ عالمی نقطۂ نظر تشکیل دینا ہے۔


سعودی عرب کی جانب سے اس عالمی فورم کی میزبانی ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے متعلق بین الاقوامی مباحث میں مملکت کے بڑھتے ہوئے کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کی ان وسیع تر کوششوں سے بھی ہم آہنگ ہے جن کے تحت مملکت کو مصنوعی ذہانت میں جدت، تحقیق اور ذمہ دارانہ تکنیکی ترقی کے علاقائی اور عالمی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔


ریاض میں ہونے والا فورم تکنیکی جدت اور اخلاقی تحفظات کے درمیان توازن قائم کرنے، عالمی تعاون کو فروغ دینے اور ایسے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے جو انسان مرکوز، جامع، ذمہ دارانہ اور پائیدار ہو۔