وزیراعظم بحری اصلاحات ٹاسک فورس: پاکستان عالمی تجارت اور بلیو اکانومی کا ابھرتا مرکز

وزیراعظم بحری اصلاحات ٹاسک فورس: پاکستان عالمی تجارت اور بلیو اکانومی کا ابھرتا مرکز

Aug 27, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد / کراچی — وزیراعظم کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں وسیع تر ساختی اور لاجسٹک اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملکی برآمدات و درآمدات کا تقریباً 90 فیصد انحصار غیر ملکی شپنگ لائنز پر ہونے کے پیش نظر، حکومت پورٹس کے بنیادی ڈھانچے، کسٹمز کلیئرنس اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے پاکستان کو خطے کا کلیدی تجارتی گیٹ وے بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

بندرگاہوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹل کسٹمز کا نفاذ

​میری ٹائم ریفارمز ایجنڈے کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT)، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں:

​گہرے نیویگیشن چینلز اور کارگو ہینڈلنگ: بڑے بین الاقوامی بحری جہازوں کی ہموار آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے چینلز کی گہرائی میں اضافہ اور جدید ہاربر کرافٹس کی فراہمی جاری ہے۔

​سمارٹ پورٹ آپریشنز: 'پورٹ کمیونٹی سسٹم'، ویب بیسڈ اور فیس لیس کسٹمز، ریئل ٹائم کنٹینر ٹریکنگ اور 24 گھنٹے نان اسٹاپ کلیئرنس کے ذریعے ترسیلی لاگت اور وقت میں واضح کمی لائی گئی ہے۔

​ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی: این ایل سی، کے پی ٹی پپری ریلوے لنک اور مربوط بارج آپریشنز کے ذریعے بندرگاہوں کو اندرونِ ملک صنعتی زونز، گوداموں اور اہم تجارتی مراکز سے جوڑا جا رہا ہے۔

شپنگ پالیسی 2026 اور بین الاقوامی بنکرنگ آپریشن

​حکومت نے نجی شعبے کی شمولیت اور جہاز سازی کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے پرکشش مراعات متعارف کرائی ہیں:

​سرمایہ کاری کے نئے شعبے: شپنگ پالیسی 2026 اور ٹرانس شپمنٹ فریم ورک کے تحت نجی شپنگ، جہاز سازی اور شپ ریپئرنگ میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے کھول دیے گئے ہیں۔

​گوادر پر تاریخ ساز بنکرنگ: گوادر پورٹ پر عالمی انرجی کمپنی 'وِٹول' کے اشتراک سے پاکستان کا پہلا بین الاقوامی بنکرنگ آپریشن مکمل کیا گیا، جس میں ایل این جی کیریئر کو 2,500 میٹرک ٹن مقامی میرین فیول فراہم کیا گیا۔

​بلیو اکانومی، فشرریز اور گڈانی ماڈرنائزیشن

​ا: صلاحاتی ایجنڈے میں گڈانی شپ بریکنگ کی جدید ویسٹ مینجمنٹ، شرمپ فارمنگ، ساحلی ماہی گیری اور ایکوا کلچر کو فروغ دے کر پائیدار معاشی نمو کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے ساحلی آبادی کے لیے روزگار کے وسیع تر مواقع پیدا ہوں گے۔