*صومالیہ میں IMCTC کا ’میڈیا فار پیس‘ اقدام، انتہاپسند پروپیگنڈے کے انسداد کے لیے اہم پیش رفت*

*صومالیہ میں IMCTC کا ’میڈیا فار پیس‘ اقدام، انتہاپسند پروپیگنڈے کے انسداد کے لیے اہم پیش رفت*

Aug 27, 2026|ویب ڈیسک

*صومالیہ میں IMCTC کا ’میڈیا فار پیس‘ اقدام، انتہاپسند پروپیگنڈے کے انسداد کے لیے اہم پیش رفت*


*سعودی عرب کی حمایت سے شروع کیے گئے اقدام کا مقصد صومالی میڈیا کی استعداد بڑھانا، نفرت انگیز بیانیے، گمراہ کن معلومات اور دہشت گرد پروپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے*


*موغادیشو، ہفتہ، 22 اگست 2026:* مملکت سعودی عرب کی حمایت اور صومالیہ کی اعلیٰ حکومتی، سکیورٹی اور عسکری قیادت کی موجودگی میں *اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن (IMCTC)* نے موغادیشو میں اپنے تزویراتی اقدام *’’میڈیا فار پیس‘‘* کا آغاز کر دیا، جس کا مقصد انتہاپسندانہ بیانیے، نفرت انگیز تقاریر، گمراہ کن معلومات اور دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے صومالی میڈیا کی قومی استعداد کو مضبوط بنانا ہے۔


اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کے تحفظ، سماجی امن کے فروغ اور انتہاپسند نظریات کے خلاف معاشرے کی مزاحمت مضبوط بنانے میں میڈیا کے کردار کو ایک فعال شراکت دار کے طور پر اجاگر کرنا ہے، بالخصوص تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں۔


تقریب میں صومالیہ کے وزیر دفاع اور صومالی فوج کے کمانڈر احمد معلم فقی، اسلامی ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کولیشن کے سیکریٹری جنرل میجر جنرل پائلٹ محمد بن سعید المغیدی، وزرائے انصاف، سکیورٹی اور مذہبی اوقاف و امور، وزیر مملکت برائے بندرگاہیں و بحری نقل و حمل، قومی سلامتی دفتر کے سربراہ، پولیس چیف، محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ، نائب وزیر خارجہ، قومی انٹیلی جنس و سکیورٹی کے نائب سربراہ سمیت اعلیٰ حکام اور دہشت گردی کے انسداد سے متعلق دیگر شخصیات نے شرکت کی۔


اعلیٰ سطح پر حکومتی، سکیورٹی اور عسکری حکام کی شرکت نے موجودہ دور میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں میڈیا کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انتہاپسند تنظیمیں اب روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو پروپیگنڈا پھیلانے، معلومات میں تحریف، معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے، افراد کو بھرتی کرنے اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔


’’میڈیا فار پیس‘‘ اقدام کے تحت IMCTC کی جانب سے *’’ڈیجیٹل میڈیا میں انتہاپسند اور نفرت انگیز بیانیے کا تجزیہ: مؤثر انسدادی اقدامات کے لیے ذرائع اور تکنیکیں‘‘* کے عنوان سے خصوصی تربیتی پروگرام بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں صحافیوں، میڈیا پروفیشنلز، ماہرین تعلیم اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق میڈیا شعبوں کے 40 ماہرین و شرکاء حصہ لے رہے ہیں۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صومالی وزیر دفاع احمد معلم فقی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف فوجی اور سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ایک ذمہ دار اور باخبر میڈیا بیانیے کی ضرورت ہے جو گمراہ کن معلومات، معاشرتی تقسیم اور انتہاپسند پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اعتدال، بقائے باہمی اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کردار ادا کرے۔


انہوں نے میڈیا کو صومالیہ کی قومی سلامتی کے تحفظ اور سماجی امن کے استحکام میں ایک قومی شراکت دار قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی قیادت میں قائم IMCTC کے کردار کو سراہا، جو قومی استعداد بڑھانے، تربیت یافتہ میڈیا ماہرین تیار کرنے اور رکن ممالک کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔


احمد معلم فقی نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششوں اور اس کے فکری، میڈیا اور مالی ذرائع کے سدباب کے لیے صومالیہ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد معاشروں کا تحفظ اور سلامتی و استحکام کو فروغ دینا ہے۔


IMCTC کے سیکریٹری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی نے کہا کہ صومالیہ میں *’’میڈیا فار پیس‘‘* اقدام کا آغاز اتحاد کے اس طرزِ عمل کا تسلسل ہے جس کے تحت انسدادِ دہشت گردی میں مشترکہ تعاون کو ایسے عملی پروگراموں اور اقدامات میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں اور معاشروں کو انتہاپسند نظریات اور بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں۔


انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں اب صرف روایتی میدانِ جنگ میں سرگرم نہیں بلکہ میڈیا اور ڈیجیٹل شعبوں میں بھی وسیع پیمانے پر کام کر رہی ہیں، جہاں وہ گمراہ کن معلومات پھیلانے، پروپیگنڈا تیار کرنے، رائے عامہ کو متاثر کرنے اور افراد کو بھرتی و انتہاپسندی کی جانب راغب کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیز رفتار ترسیل اور وسیع رسائی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔


IMCTC کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ *پیشہ ور اور باخبر میڈیا ماہرین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دفاع کی پہلی اہم صف ہیں۔*


المغیدی نے وضاحت کی کہ ’’میڈیا فار پیس‘‘ کا مقصد میڈیا پروفیشنلز کو محض معلومات منتقل کرنے والوں کے بجائے ایسے فعال ماہرین میں تبدیل کرنا ہے جو انتہاپسند مواد کا *تجزیہ، تصدیق، شناخت اور مؤثر مقابلہ* کرنے کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس ہوں۔


تربیتی پروگرام میں ڈیجیٹل تصدیق اور اوپن سورس انٹیلی جنس، تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ، مواد کی ترسیل کا تجزیہ، جعلی اکاؤنٹس اور خودکار بوٹس کی شناخت، بیانیے اور متنی مواد کے تجزیے کی تکنیکیں، مربوط اثرانداز ہونے کی کارروائیوں کی نشاندہی، اور نیٹ ورک و روابط کے تجزیے سمیت جدید ذرائع اور تکنیکیں شامل ہیں۔


شرکاء کو انتہاپسند اور نفرت انگیز بیانیے کے نفسیاتی اور معاشرتی اثرات کو سمجھنے، شواہد پر مبنی انسدادی اقدامات تیار کرنے، مؤثر متبادل اور انسدادی بیانیے تشکیل دینے، جبکہ میڈیا و ڈیجیٹل خواندگی اور معاشرتی مزاحمت کو فروغ دینے کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔


میجر جنرل المغیدی نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی اور عملی اقدامات کی جنگ نہیں بلکہ *آگاہی کی جنگ بھی ہے*۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پروفیشنلز کی استعداد بڑھانے میں سرمایہ کاری دراصل معاشروں کی اس صلاحیت میں براہِ راست سرمایہ کاری ہے جس کے ذریعے وہ انتہاپسند نظریات اور فکری و میڈیا سطح پر دراندازی کی کوششوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔


انہوں نے IMCTC کے پروگراموں اور اقدامات پر عمل درآمد میں صومالی حکومت کے تعاون اور حمایت کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتحاد رکن ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، تجربات کے تبادلے اور انسدادِ دہشت گردی کے فکری، میڈیا، عسکری اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد سمیت مختلف شعبوں میں مربوط کوششوں کو آگے بڑھاتا رہے گا۔


*’’میڈیا فار پیس‘‘* اقدام IMCTC کے انسدادِ دہشت گردی کے ایک پائیدار نظام کی تشکیل کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے، جو دہشت گردی کے محض نتائج سے نمٹنے کے بجائے ان نظریاتی اور میڈیا ذرائع کا بھی مقابلہ کرتا ہے جن کے ذریعے انتہاپسند تنظیمیں گمراہ کن معلومات، معاشرتی تقسیم اور بھرتی کے بیانیے پھیلاتی ہیں۔


*میڈیا، آگاہی اور پیشہ ورانہ ابلاغ کو انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے مرکز میں رکھ کر یہ اقدام معاشرتی مزاحمت مضبوط بنانے، سلامتی و استحکام کے فروغ اور صحافیوں و میڈیا پروفیشنلز کو باخبر، ذمہ دار اور مؤثر صحافت کے ذریعے امن کے قیام میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔*