جرائم میں ملوث افغان باشندوں کیخلاف شکنجہ سخت: جرمنی نے مزید 23 مجرم کابل ڈی پورٹ کر دیے
جرائم میں ملوث افغان باشندوں کیخلاف شکنجہ سخت: جرمنی نے مزید 23 مجرم کابل ڈی پورٹ کر دیے
برلن / لیپزگ — جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے داخلی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر منشیات، انسانی اسمگلنگ اور سنگین جرائم میں ملوث غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ جرمن حکام نے تازہ ترین کارروائی میں سنگین جرائم میں سزا یافتہ مزید 23 افغان شہریوں کو خصوصی چارٹر پرواز کے ذریعے لیپزگ سے کابل روانہ کر دیا۔
مجرمانہ سرگرمیاں اور یورپی سیکیورٹی خدشات
میزبان ممالک کے مطابق غیر قانونی مقیم تارکین وطن کی مجرمانہ سرگرمیاں امن و امان کے لیے مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بدری کی پالیسیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
سزا یافتہ افراد کی بے دخلی: جرمن وزارت داخلہ کی تصدیق کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی اکثریت عدالتوں سے مختلف سنگین جرائم میں باقاعدہ سزا یافتہ تھی۔
پالیسی میں وسعت کا اعلان: جرمن وزیر داخلہ الیکگزینڈر ڈوبرنٹ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ نہ صرف سنگین جرائم میں ملوث افراد بلکہ ملک چھوڑنے کے حتمی احکامات پانے والے تمام غیر قانونی تارکین کو بھی فوری ڈی پورٹ کیا جائے گا۔
ملک بدری کے حالیہ اعداد و شمار
افغان نیوز ایجنسی 'خامہ پریس' اور جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ مہینوں میں کابل کے لیے ڈی پورٹیشن پروازوں میں تسلسل دیکھا گیا ہے:
28 جولائی کی کارروائی: جرمنی نے گزشتہ ماہ 31 افغان باشندوں کو چارٹر پرواز کے ذریعے افغانستان واپس بھیجا تھا۔
مجموعی تعداد: طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے جرمنی اب تک 257 مجرم اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیج چکا ہے۔
میزبان ممالک کی بدلتی حکمت عملی
یورپ بھر میں پناہ گزینوں کی مجرمانہ سرگرمیوں پر سخت عوامی ردعمل کے بعد جرمن حکومت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف انخلا کا سلسلہ جاری رہے گا۔