جرائم پیشہ افغانیوں کے خلاف ترکیہ اور جرمنی کا کریک ڈاؤن
انقرہ/برلن (ویب ڈیسک): دنیا بھر میں غیر قانونی سرگرمیوں، سنگین جرائم اور بدامنی میں ملوث افغان باشندوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ مختلف ممالک میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین میزبان ممالک کے لیے شدید سیکیورٹی اور انتظامی چیلنجز کا باعث بن رہے ہیں، جس کے بعد ترکیہ اور جرمنی نے قتل، منشیات اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز شروع کر دیے ہیں۔
ترکیہ میں انسانی اسمگلرز سمیت ہزاروں افغان مہاجرین گرفتار
ترک جریدے 'اخلاص نیوز ایجنسی' اور 'افغانستان انٹرنیشنل' کی رپورٹس کے مطابق، ترک سیکیورٹی فورسز نے صوبہ آغدیر میں ایک مؤثر کارروائی کے دوران 5 انسانی اسمگلرز اور 11 غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔
گرفتار کیے گئے 11 افغان باشندوں کو ملک بدری کے لیے ڈی پورٹیشن مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
انسانی اسمگلنگ میں ملوث 5 اہم ملزمان کو قانونی چارہ جوئی کے لیے پراسیکیوٹر کے دفتر منتقل کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں ترکیہ سے 16 ہزار 436 افغان مہاجرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
جرمنی کا سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کو بقیہ ملک بدر کرنے کا فیصلہ
عالمی میڈیا کے مطابق، جرمنی نے بھی جرائم کے مرتکب افغان شہریوں کے لیے ملک بدری کی پروازوں میں نمایاں طور پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمن حکام اب جرائم پیشہ عناصر کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
"حال ہی میں جرمنی نے سنگین جرائم میں سزایافتہ 32 افغان شہریوں کو چارٹرڈ پرواز کے ذریعے افغانستان واپس بھیجا ہے، جبکہ مزید 100 افغانوں کو جلد ملک بدر کیا جائے گا۔" — جرمن وزیر داخلہ
عالمی اقدامات: دہشت گردی اور سیکیورٹی پر پاکستان کے موقف کی تائید
مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر غیر قانونی افغان باشندوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور ملک بدری کے یہ حالیہ اقدامات، دہشت گردی اور غیر قانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ موقف کی واضح تائید کرتے ہیں۔ پاکستان مسلسل یہ کہتا آیا ہے کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی ملکی سیکیورٹی اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔
اہم نکات (Key Takeaways)
سیکیورٹی چیلنج: افغان مہاجرین کی جانب سے قتل، منشیات اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم نے یورپی اور ایشیائی ممالک کو سخت اقدامات پر مجبور کیا ہے۔
ترکیہ کا بڑا ایکشن: پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں 16,000 سے زائد غیر قانونی افغان باشندوں کی گرفتاری ترکیہ کی سخت پالیسی کو ظاہر کرتی ہے۔
جرمنی کی زیرو ٹولرنس: جرمن وزارت داخلہ نے سزایافتہ افغان مجرموں کی فوری ملک بدری کے لیے خصوصی فضائی آپریشنز شروع کر دیے ہیں