تقسیمِ ہند  کے  بع د مسلمانوں  کا دردناک سفرِ ہجرت

تقسیمِ ہند کے بع د مسلمانوں کا دردناک سفرِ ہجرت

Aug 8, 2026|ویب ڈیسک

تقسیمِ ہند کے بعد مسلمانوں کا دردناک سفرِ ہجرت

​قیامِ پاکستان لاکھوں شہداء، مہاجرین اور ہمارے اسلاف کی بے مثال اور لازوال قربانیوں کا ثمر ہے۔ 1947ء میں تقسیمِ ہند کے تاریخی اعلان کے بعد برصغیر کے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے گئے، جس کے بعد لاکھوں خاندان اپنی جانیں بچانے کے لیے مختلف قافلوں کی صورت میں نوزائیدہ مملکتِ پاکستان کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے عینی شاہد بزرگ شہری محمد شعیب نے اس دردناک اور خونچکاں تاریخ کے بیتے اوراق کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

​سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم اور رات کی تاریکی میں ہجرت

​عینی شاہد محمد شعیب نے ہجرت کی دردناک یادوں کو تازپ کرتے ہوئے سنسنی خیز اور رقت انگیز انکشافات کیے:

​پناہ گزینی کی جدوجہد: "ہماری آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے۔ ہمارے خاندان سمیت بے شمار مسلمان رات کی تاریکی میں چوری چھپے اپنے آباؤ اجداد کے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔"

​ریاستی و انتہا پسندانہ تشدد: "ہجرت کے دوران سکھوں اور ہندو انتہا پسندوں نے بے بس قافلوں پر بدترین حملے کیے۔ مردوں، خواتین اور سن رسیدہ افراد سمیت دودھ پیتے بچوں کو بے رحمی سے شہید کر دیا گیا۔"

​آزاد اسلامی وطن کا مقصد: "ہماری اس عظیم ہجرت اور تگ و دو کا مقصد کوئی زمین، جائیداد یا مالی مفاد حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ صرف ایک ایسا آزاد اسلامی وطن حاصل کرنا تھا جہاں مسلمان اپنی دینی و ثقافتی اقدار کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔"

​شہداء اور مہاجرین کے قرض کی ادائی کا طریقہ

​محمد شعیب کے مطابق پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اور انمول نعمت ہے جو لاکھوں جانوں کے نذرانے کے بعد حاصل ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ شہداء اور مہاجرین کی ان لازوال قربانیوں کا حقیقی قرض صرف اور صرف پاکستان کی نیت دلی سے خدمت، باہمی اتحاد، اور دن رات محنت کر کے ملکی ترقی کو یقینی بنا کر ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔