طالبان رجیم میں افغان شہری بارودی سرنگوں کے رحم و کرم پر

طالبان رجیم میں افغان شہری بارودی سرنگوں کے رحم و کرم پر

Jul 3, 2026|ویب ڈیسک

اوچا کی رپورٹ میں ہلاکتوں کا ہولناک انکشاف؛ ماہرین نے طالبان کی انتظامی نااہلی اور ترجیحات پر سوال اٹھا دیے

​کابل (ویب ڈیسک): افغانستان میں کئی دہائیوں سے پھیلی بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد نے معصوم افغان شہریوں، بالخصوص بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ کاریِ انسانی امور (OCHA) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، افغانستان اس وقت بارودی مواد اور سرنگوں سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے لحاظ سے عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر آ چکا ہے، جو کہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔

​اوچا کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں ہر ماہ اوسطاً 50 افراد بارودی سرنگوں کی زد میں آ کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان دھماکوں کا شکار ہونے والوں میں 80 فیصد تعداد معصوم بچوں کی ہے، جو کھیل کود یا آمد و رفت کے دوران ان خفیہ بارودی سرنگوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

​دفاعی اور انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال طالبان انتظامیہ کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتی ہے۔

​"بارودی سرنگوں کی صفائی میں مسلسل ناکامی طالبان رجیم کی انتظامی نااہلی اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان کی توجہ شہری تحفظ کے بجائے دہشتگرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی پر مرکوز ہے، جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے طویل المدتی خطرہ بن چکا ہے۔"

​ اوچا رپورٹ کے کلیدی حقائق اور اعداد و شمار (Key Numbers)

​بچوں پر اثرات: رواں سال جنوری سے مئی کے دوران 175 افراد بارودی سرنگوں کی زد میں آئے، جن میں سے 75 فیصد سے زائد صرف بچے تھے۔

​خطرے کے سائے میں زندگی: افغانستان میں تقریباً 30 لاکھ افراد ایسے ہائی رسک علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جو دھماکہ خیز مواد سے متاثرہ زمین کے محض ایک کلومیٹر کے دائرے میں آتے ہیں۔

​عالمی درجہ بندی: بارودی مواد کے دھماکوں اور ان سے ہونے والے جانی نقصان کے اعتبار سے افغانستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا متاثرہ ملک بن چکا ہے۔