تازہ ترین
بلوچستان: نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری، ہائی لیول سیکیورٹی کمیٹی قائم نوشکی میں تاجروں کے ٹرک نذرِ آتش، بھتہ خوری کے الزامات سامنے آگئے مظفرآباد ہیلی کاپٹر حادثہ: وطن کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ویمن ڈویلپمنٹ کی ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کے قیام کی سفارش بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر تاجر برادری اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج؛ کئی اضلاع میں جزوی ہڑتال صدر اور وزیراعظم کا بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین بلوچستان میں صحت کے شعبے میں بڑا اقدام، تربت میں جدید ترین اسپتال کا آغاز بلوچستان کے ضلع ژوب میں زلزلے کے جھٹکے،ریکٹر اسکیل پر شدت 4.1 ریکارڈ ژوب ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یا مقامی صحافت کا جنازہ؟ بلوچستان: پانی کا بحران یا وجود کا بحران؟ نیا گریٹ گیم: امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی توجہ بلوچستان کے قیمتی معدنی ذخائر پر مرکوز بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک، ایک جوان شہید ایشین گیمز 2026: پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کے سپرد عالمی کپ فٹ بال 2026 کے ٹکٹوں کی دوبارہ فروخت، قیمتوں میں نمایاں کمی ملک میں فٹ بال کے مضبوط ڈھانچے کے لیے قومی سطح کا نیا منصوبہ منظور ہاکی کے پنالٹی کارنر کے بے تاج بادشاہ سہیل عباس 51 برس کے ہوگئے
بلوچستان خبر

آنتوں اور خوراک سے پارکنسنز بیماری کے خطرات میں اہم تعلق، نئی تحقیق میں انکشاف

آنتوں اور خوراک سے پارکنسنز بیماری کے خطرات میں اہم تعلق، نئی تحقیق میں انکشاف

اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)طبی ماہرین کے مطابق پارکنسنز بیماری کا تعلق صرف دماغ ہی نہیں بلکہ آنتوں کی صحت سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ روزمرہ کی خوراک اس بیماری کے خطرے کو بڑھانے یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی اور چائے کا باقاعدہ استعمال پارکنسنز کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات خصوصاً مردوں میں اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اسی طرح زیادہ فائبر والی غذا بیماری کے امکانات کو کم کرنے میں معاون پائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق میڈیٹیرینین اور مائنڈ غذا کی طرزِ زندگی پر مبنی خوراک پارکنسنز کے آغاز کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان غذاؤں میں سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، دالیں، اناج اور زیتون کا تیل شامل ہوتا ہے جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور میٹھے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان غذائی اصولوں پر عمل کرنے والی خواتین میں یہ بیماری اوسطاً سترہ سال بعد ظاہر ہوئی۔اس کے برعکس الٹرا پراسیسڈ غذائیں جیسے فاسٹ فوڈ، چپس، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ کھانے پارکنسنز کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں ابتدائی علامات ظاہر ہونے کا امکان دو اعشاریہ پانچ گنا زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں، تاہم باقاعدہ ورزش اور متوازن خوراک اس کے خطرات کو کم کرنے اور مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔