آنتوں اور خوراک سے پارکنسنز بیماری کے خطرات میں اہم تعلق، نئی تحقیق میں انکشاف

3 دن قبل
آنتوں اور خوراک سے پارکنسنز بیماری کے خطرات میں اہم تعلق، نئی تحقیق میں انکشاف

اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)طبی ماہرین کے مطابق پارکنسنز بیماری کا تعلق صرف دماغ ہی نہیں بلکہ آنتوں کی صحت سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ روزمرہ کی خوراک اس بیماری کے خطرے کو بڑھانے یا کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی اور چائے کا باقاعدہ استعمال پارکنسنز کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات خصوصاً مردوں میں اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اسی طرح زیادہ فائبر والی غذا بیماری کے امکانات کو کم کرنے میں معاون پائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق میڈیٹیرینین اور مائنڈ غذا کی طرزِ زندگی پر مبنی خوراک پارکنسنز کے آغاز کو مؤخر کر سکتی ہے۔ ان غذاؤں میں سبز پتوں والی سبزیاں، پھل، دالیں، اناج اور زیتون کا تیل شامل ہوتا ہے جبکہ تلی ہوئی اشیاء اور میٹھے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان غذائی اصولوں پر عمل کرنے والی خواتین میں یہ بیماری اوسطاً سترہ سال بعد ظاہر ہوئی۔اس کے برعکس الٹرا پراسیسڈ غذائیں جیسے فاسٹ فوڈ، چپس، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ کھانے پارکنسنز کے خطرے میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں ابتدائی علامات ظاہر ہونے کا امکان دو اعشاریہ پانچ گنا زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں، تاہم باقاعدہ ورزش اور متوازن خوراک اس کے خطرات کو کم کرنے اور مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔