: یومِ دفاع: نائیک محمد وسیم شہید کی لازوال قربانی کو قوم کا سلام
اسلام آباد — 6 ستمبر یومِ دفاع و شہداء کے پروقار موقع پر پوری قوم مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والے عظیم شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔ ان ہی مایہ ناز سپوتوں میں پاک فوج کے بہادر جوان نائیک محمد وسیم شہید بھی شامل ہیں، جن کی شجاعت اور لازوال قربانی کو آج پوری قوم سلام پیش کر رہی ہے۔
اس قومی دن کی مناسبت سے نائیک محمد وسیم شہید کے اہل خانہ نے اپنے لختِ جگر کی یادیں تازہ کیں اور ان کی نجی زندگی اور جذبۂ حب الوطنی کے حوالے سے دل کو چھو لینے والی گفتگو کی۔
'شہادت سے بڑھ کر کائنات میں کوئی موت نہیں'
ایک سچے سپاہی کے لیے شہادت موت نہیں بلکہ ایک ابدی زندگی کا آغاز ہے۔ نائیک وسیم شہید کے والد نے اپنے بیٹے کے جذبے کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک یادگار واقعہ شیئر کیا جو ان کے پختہ ایمان کا عکاس ہے۔
والد نے فخر سے بتایا: "وسیم اکثر مجھ سے کہا کرتا تھا کہ ابو! شہادت سے بڑھ کر کائنات میں کوئی اور موت نہیں۔ میں نے اسے ہمیشہ یہی دعا دی کہ اللہ تمہیں یہ مقام مبارک کرے، اور بالآخر اس کی دلی مراد پوری ہو گئی۔"
اس جذبے کی تائید کرتے ہوئے شہید کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر شہادت کے لیے ہمیشہ ذہنی طور پر تیار رہتے تھے، اور ڈیوٹی پر جاتے ہوئے بھی ان کا یہی ولولہ انگیز جذبہ ہوتا تھا۔
حسنِ سلوک اور شفیق رویے کی درخشاں مثال
نائیک وسیم محض ایک نڈر سپاہی ہی نہیں بلکہ ایک بہترین اور شفیق انسان بھی تھے۔ ان کی والدہ نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ وہ گھر میں سب سے انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ، "وسیم روزانہ اپنی بہنوں کو فون کرتا اور ان کا حال احوال لازمی پوچھتا تھا۔"
اپنے شوہر کی جدائی کا دکھ لیے ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ وہ ان کے لیے ایک مضبوط سہارا تھے۔
"وہ ایک بہترین انسان اور شفیق شوہر تھے جو ہر خوشی اور غمی میں میرا ساتھ نبھاتے تھے۔ ان کا اخلاق اور رویہ میرے اور تمام گھر والوں کے ساتھ انتہائی خوشگوار اور مثالی تھا۔"
آج ہم جن آزاد فضاؤں میں پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں، وہ نائیک محمد وسیم شہید جیسے سرفروشوں کے مقدس لہو کی ہی مرہونِ منت ہے۔ ان کی یہ لازوال قربانیاں ہماری آزادی اور ملکی سلامتی کی وہ مضبوط بنیاد ہیں جسے کوئی دشمن متزلزل نہیں کر سکتا