بھارت میں نظامِ صحت کی بدحالی: پارلیمانی کمیٹی اور لانسیٹ رپورٹ میں سنگین انکشافات

بھارت میں نظامِ صحت کی بدحالی: پارلیمانی کمیٹی اور لانسیٹ رپورٹ میں سنگین انکشافات

Aug 25, 2026|ویب ڈیسک

​نئی دہلی — بھارت میں بنیادی صحت کا شعبہ سنگین انتظامی اور مالیاتی بحران سے دوچار ہو چکا ہے، جہاں سرکاری اسپتالوں میں بنیادی طبی عملے کی عدم دستیابی اور ناکافی سہولیات کے باعث عام شہری علاج معالجے کے لیے دربدر ہیں۔

​بھارتی جریدے دی وائر میں شائع ہونے والی پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رپورٹ نے ملک کے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کے فقدان کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

​ضلعی اسپتالوں میں ماہرینِ امراض کا شدید فقدان

​پارلیمانی رپورٹ کے مطابق ملک کے بیشتر ضلعی اسپتالوں میں گردوں کے علاج سے متعلق کوئی مناسب انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے:

​ماہرین کی مکمل عدم دستیابی: بھارت کی کم از کم 29 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے کسی بھی ضلعی اسپتال میں امراضِ گردہ کا ایک بھی ماہر (Nephrologist) تعینات نہیں ہے۔  

​تکنیکی عملے کی کمی: 20 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے ضلعی اسپتالوں میں ڈائیلاسز ٹیکنیشن اور یورولوجسٹ کا مکمل فقدان ہے۔

​آسامیاں منظور نہ ہونا: متعدد ریاستی حکومتوں نے ضلعی سطح کے سرکاری اسپتالوں میں گردوں کے علاج کے لیے طبی عملے کی آسامیاں تک منظور نہیں کیں۔

​بڑھتی بیماری، ڈیٹا کا فقدان: ملک کی تقریباً 13 سے 16 فیصد بالغ آبادی گردوں کے امراض میں مبتلا ہے، مگر مریضوں کے علاج اور بیماری کی شرح جانچنے کے لیے کوئی تازہ ترین قومی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

​لانسیٹ کمیشن کی ناقص وسائل پر تنقید

​لانسیٹ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بھارتی نظامِ صحت غیر مساوی سہولیات، فنڈز کے ناقص استعمال اور شہریوں کو درپیش ناکافی مالیاتی تحفظ کا شکار ہے۔

​طبی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے عوامی فلاح، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں بہتری لانے کے بجائے سیاسی مفادات اور ہندوتوا بیانیے کو ترجیح دی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا پبلک ہیلتھ سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔