افغان طالبان کی دہشتگرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی: عالمی برادری کے تحفظات برقرار

افغان طالبان کی دہشتگرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی: عالمی برادری کے تحفظات برقرار

Aug 25, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد — افغانستان میں طالبان رجیم کی جانب سے کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کی مسلسل سرپرستی پر عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی جائزوں کے مطابق موجودہ دور میں افغانستان علاقائی اور عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کے محفوظ گڑھ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

​امریکی جریدے ساؤتھ ایشیا جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت متعدد شدت پسند گروہ بدستور سرگرم عمل ہیں۔

​عسکریت پسندوں کے مشترکہ لاجسٹک اور تربیتی نیٹ ورکس

​رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف نظریات کے حامل گروہ مشترکہ طور پر افغان سر زمین پر ہتھیاروں کی دستیابی، جدید تربیت اور لاجسٹک سہولت کاری سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

​رپورٹ کے اہم شواہد اور نکات

​سرحد پار دہشتگردی: پاکستان نے مسلسل افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج کے ذریعے ہونے والی سرحد پار دہشتگردی اور حملوں کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا ہے۔

​اقوام متحدہ کے شواہد: اقوام متحدہ (UN) کی رپورٹس نے بھی افغانستان میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں اور طالبان انتظامیہ کی پشت پناہی کے شواہد پیش کیے ہیں۔

​مزاحمتی قیادت کی تصدیق: افغان نیشنل ریزسٹینس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے بھی تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کی براہِ راست نگرانی میں دہشتگرد تنظیمیں مکمل فعال ہیں۔

​خطے کے معاشی انضمام اور سرمایہ کاری کو خطرات

​ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں کی مستقل پناہ گاہیں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ عسکریت پسندی کی یہ مسلسل سرپرستی نہ صرف وسطی و جنوبی ایشیا کے اقتصادی انضمام کو کمزور کر رہی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔