وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات: پی این ایس سی اور کراچی شپ یارڈ کی جدید کاری تیز

وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات: پی این ایس سی اور کراچی شپ یارڈ کی جدید کاری تیز

Aug 25, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد — ملک کی بحری معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) اور کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KS&EW) کے جدیدکاری منصوبے پر باقاعدہ عملدرآمد جاری ہے۔

​حکومتی اصلاحاتی حکمتِ عملی کا مقصد قومی اداروں کی آپریشنل صلاحیت بڑھانا، ملکی وسائل سے جہاز سازی کو فروغ دینا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔

​پی این ایس سی کا تھرڈ پارٹی پرفارمنس آڈٹ اور اصلاحات

​پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی شفافیت اور پیشہ ورانہ استعداد کار جانچنے کے لیے آزاد تھرڈ پارٹی پرفارمنس آڈٹ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس کی روشنی میں درج ذیل اقدامات پر کام جاری ہے:

​آڈٹ سفارشات کا نفاذ: بحری بیڑے کے انتظام اور مالیاتی امور کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات پر فوری عملدرآمد۔

​ملکی کارگو کی ترجیح: سرکاری اور نجی شعبے کے ملکی شپنگ آرڈرز کو قومی شپ یارڈ کے ذریعے روٹ کرنے کی پالیسی کا نفاذ۔

​کراچی شپ یارڈ: جدید جہاز سازی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی

​کراچی شپ یارڈ کو تجارتی جہاز سازی اور جدید ہاربر کرافٹس کی تیاری کا مرکزی فریم ورک سونپ دیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق بیڑے تیار کیے جا سکیں۔

​اہم تکنیکی و تزویراتی اقدامات

​ماحول دوست ایندھن کا استعمال: کراچی شپ یارڈ میں کلین انرجی اور بائیو فیول سے چلنے والے جدید ہاربر کرافٹس کی تیاری۔

​معیار کی یکسانیت: اسٹینڈرڈائزیشن کمیٹی کی منظور شدہ سفارشات پر مکمل عملدرآمد تاکہ تکنیکی نقائص ختم کیے جا سکیں۔

​عالمی جوائنٹ وینچرز: بین الاقوامی شپ یارڈز کے اشتراک سے جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں کا قیام۔

​مرمت کی توسیع: شپ یارڈ میں تجارتی جہازوں کی تعمیر اور مرمت (Ship Repair) کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ۔

​پی این ایس سی اور کراچی شپ یارڈ کی فعال بحالی سے نہ صرف قومی شپنگ انڈسٹری مستحکم ہوگی بلکہ پاکستان کی مجموعی بحری معیشت (Blue Economy) کو بھی خاطر خواہ وسعت ملے گی۔