بلوچستان خبر

کوئٹہ کے محافظ ،بنیادی سہولتوں سے بھی محروم


کہا جاتا ہے کہ چراغ تلے اندھیرا بدقسمتی سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں یہ محاورہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے جہاں صوبے کی اعلیٰ ترین شخصیات اہم سرکاری دفاتر اور حساس تنصیبات موجود ہیں وہیں ان سب کی حفاظت پر مامور سینکڑوں پولیس اہلکار بنیادی انسانی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں روزانہ صبح سے شام تک سخت دھوپ گرمی سردی اور دیگر موسمی سختیوں کا مقابلہ کرنے والے یہ جوان ریاست کی پہلی دفاعی لائن ہیں مگر افسوس کہ ان کے لیے نہ مناسب واش روم موجود ہیں نہ پینے کے صاف پانی کا انتظام نہ دھوپ سے بچاؤ کے لیے سایہ دار جگہ اور نہ ہی طویل ڈیوٹی کے دوران چند لمحے آرام کرنے کے لیے کوئی مناسب آرام گاہ گرمیوں میں کوئٹہ کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے ایسے میں مسلسل کئی گھنٹے کھڑے رہنا کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں لیکن ہمارے پولیس اہلکار یہ سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری کو فرض سمجھتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اور معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری کو اسی احساس کے ساتھ نبھا رہے ہیں چند ماہ قبل کوئٹہ میں دہشت گردی کے ایک المناک واقعے کے دوران انہی پولیس جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا انہوں نے اپنی حفاظت کی پروا کیے بغیر عوامی نمائندوں سرکاری شخصیات اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی کئی اہلکار شہید ہوئے، کئی زخمی ہوئے مگر ان کے حوصلے پست نہ ہوئے آج انہی بہادر جوانوں کو بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ترسنا پڑ رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان گورنر بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام روزانہ انہی چوکوں اور سڑکوں سے گزرتے ہیں جہاں یہ اہلکار گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں کیا کبھی کسی نے رک کر ان کے حالات کا جائزہ لیا کیا کسی نے یہ سوچا کہ جو جوان ہماری حفاظت کے لیے دن رات کھڑے ہیں انہیں کم از کم پینے کا پانی واش روم اور سایہ دار جگہ تو میسر ہونی چاہیے یہ مطالبہ کسی اضافی مراعات کا نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا ہے ایک مہذب ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محافظوں کا خیال رکھے اگر ہم اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کو عزت سہولت اور بہتر ماحول فراہم نہیں کر سکتے تو یہ ہمارے اجتماعی رویے پر ایک سوالیہ نشان ہے اس کالم کے ذریعے وزیر اعلیٰ بلوچستان گورنر بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ریڈ زون میں تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے فوری طور پر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں عارضی یا مستقل واش رومز صاف پینے کے پانی کے کولرز، سایہ دار شیڈز اور آرام گاہوں کا قیام کوئی ناممکن کام نہیں صرف توجہ اور سنجیدگی درکار ہے اسی طرح صوبے میں کام کرنے والی سماجی تنظیموں فلاحی اداروں این جی اوز بالخصوص این ڈی پی اور بی آر ایس پی سمیت دیگر اداروں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے کی جانب توجہ دیں اگر سرکاری سطح پر فوری اقدامات ممکن نہ ہوں تو کم از کم فلاحی بنیادوں پر ان اہلکاروں کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ جو لوگ ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں وہ لاوارث نہیں ہونے چاہئیں ان کے بھی گھر ہیں والدین ہیں بچے ہیں اور خواب ہیں ان کی عزت سہولت اور فلاح صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ہمارا اخلاقی قرض بھی ہے وقت آ گیا ہے کہ ریڈ زون کے محافظوں کو بھی وہ عزت اور سہولت دی جائے جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں